Wednesday , September 26 2018
Home / Top Stories / لیفٹننٹ گورنر کے دفتر پر کجریوال کی ہڑتال نامنظور

لیفٹننٹ گورنر کے دفتر پر کجریوال کی ہڑتال نامنظور

آپ کو ہڑتال کی اجازت کس نے دی ؟ دہلی ہائیکورٹ کا سوال ، افسران ڈیوٹی پر موجود

نئی دہلی ۔ 18 جون۔(سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائیکورٹ نے لیفٹننٹ گورنر کے دفتر پر چیف منسٹر اروند کجریوال کی ہڑتال کو آج عملاً نامنظور کردیا اور عام آدمی پارٹی ( عآپ) حکومت سے دریافت کیا کہ اس قسم کے احتجاج کے لئے کس نے انھیں اجازت و اختیار دیا تھا۔ عدالت نے کوئی عبوری ہدایت جاری نہیں کی بلکہ اس تاثر کا اظہار کیاکہ ہڑتالیں اور دھرنا پروگرام کسی کے رہائشی یا کام کے مقام کے اندر نہیں بلکہ باہر منظم کئے جاتے ہیں۔ جسٹس اے کے چاؤلہ اور جسٹس نوین چاؤلہ نے دو درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے اس تاثر کا اظہار کیا ۔ ایک درخواست کجریوال کے احتجاج کے خلاف تھی اور دوسری دہلی انتظامیہ کے آئی اے ایس افسران کی مبینہ ہڑتال کے خلاف تھی۔ عدالت نے بحث کی سماعت کے بعد آئندہ پیشی 22 جون کو مقرر کی ۔ کجریوال اور اُن کے وزراء 11 جون سے لیفٹننٹ گورنر کے دفتر پر دھرنا دے رہے ہیں ۔ لیفٹننٹ گورنر انیل بائجال سے ان کے اہم مطالبات میں آئی اے ایس افسران کو ان کی مبینہ ہڑتال ختم کرنے کی ہدایت دینا بھی شامل ہے ۔ انھوں نے شہریوں کو ان کے گھر پر راشن کی سربراہی کی اسکیم منظور کرنے کی درخواست بھی شامل ہے۔ دوران بحث مرکز نے عدالت سے کہاکہ آئی اے ایس افسران کسی ہڑتال پر نہیں ہیں۔ بنچ سے درخواست کی کہ کجریوال اور دوسروں کو لیفٹننٹ گورنر انیل بائجال کے دفتر کے علاقہ کا تخلیہ کرنے کی ہدایت کی جائے ۔

TOPPOPULARRECENT