Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / لیو جیسے افراد کی عزت افزائی ، نوبل انعام کی توہین : چین

لیو جیسے افراد کی عزت افزائی ، نوبل انعام کی توہین : چین

باغی جہدکار کی بیوہ کی رہائی، نوبل ایوارڈ کمیٹی کے صدر کو ویزا دینے سے حکومت کا انکار

بیجنگ؍اوسلو۔15 جولائی ۔(سیاست ڈاٹ کام) جمہوریت حامی اور کمیونسٹ پارٹی کے مخالف رہے لیو شیاؤبو کے انتقال کے بعد بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سامنا کر رہے چین نے شیاؤبو کو سال 2010 ء میں نوبل انعام دیئے جانے کو ایوارڈ کی توہین قرار دیا ہے ۔چین کے وزیر خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے کہا کہ چین اپنی قانونی خودمختاری میں مداخلت کرنے والے بہت سے ممالک سے ناراضگی ظاہر کر چکا ہے ۔شوانگ نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ لیو جیسے لوگوں کو ایوارڈ دینا نوبل کے مقصد کے منافی ہے ۔یہ امن ایوارڈ کی توہین کے برابر ہے۔ دریں اثنا امریکہ اور یورپی یونین نے لیو شیاؤبو کے انتقال کے بعد انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور چین کے صدر شی جن پنگ سے لیو کی بیوہ کو رہا کرنے کو کہا ہے ۔ چین نے لیو کی اہلیہ کو سال 2010 ء سے نظربند رکھا ہوا ہے ۔ نوبل انعام یافتہ لیو شیاؤبو کے ملک سے باہر جانے کی آخری خواہش پوری نہ کرنے کے معاملے پر کمیونسٹ چین پر سخت تنقید ہو رہی ہے اور بین الاقوامی برادری ان کی بیوہ کو رہا کرنے کے لئے چین پر دباؤ بھی بنا رہی ہے ۔نوبل امن ایوارڈ کیلئے فاتحین کو منتخب کرنے والی ناروے کی نوبل ایوارڈکمیٹی کی صدر بیرٹ ریس اینڈرسن کو چین نے ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے ۔ وہ نوبل امن انعام یافتہ چینی انسانی حقوق کارکن اور جمہوریت نواز لیو شیاؤبو کی آخری رسومات میں شرکت کرنے کے لئے چین جانا چاہتی تھیں۔ اوسلو میں واقع چین کے سفارت خانہ نے ویزا سے متعلق ان کی عرضی کو مسترد کر دیا۔ ان سے کہا گیا کہ ویزا کے لئے دی گئی عرضی غلط ہے ۔ ان کے پاس اس شخص کا بھیجا ہوا دعوت نامہ نہیں ہے جس کے پاس وہ جا رہی ہیں۔ سفارت خانہ کو جب بتایا گیا کہ وہ کسی کی آخری رسومات میں حصہ لینے کے لئے چین جانا چاہتی ہیں۔
جس شخص کا دعوت نامہ طلب کیا جا رہا ہے ، وہ اب دنیا میں نہیں ہے ۔تب کہا گیا کہ متوفی شخص کے رشتہ داروں کا دعوت نامہ ہونا چاہئے ۔ اینڈرسن کے یہ بتانے پر کہ متوفی شیاباؤ کی بیوی کسی سے مل نہیں پا رہی ہیں۔ وہ ذہنی اور جسمانی طور پر بیمار ہیں اور یہ بھی کہ چین میں قیام کے لئے انہوں نے ہوٹل تک بک کروا لیا ہے اور ان کے پاس واپسی کا ٹکٹ بھی ہے ۔ ایسی صورت میں انہیں وہاں ٹھہر کر کسی خاص مقصد کو پورا نہیں کرنا ہے ، تب بھی سفارت خانہ کے اہلکاروں نے ان کی بات نہیں سنی اور ان کی درخواست مسترد کر دی۔ لیو شیاؤبو کی آخری رسومات آج صبح ادا کردی گئی اور اس کے ساتھ ہی ان کی بیوہ کی نظر بندی ختم کردی گئی۔ ایک سینئر افسر نے یہ اطلاع دی ہے۔اس دوران چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے لیو شیاؤبو کے خلاف بہت ہی غیر شائستہ تبصرہ کرتے ہوئے انہیں ’’حقیرمجرم‘‘ تک کہہ دیا کہ وہ چینی معاشرے کے خلاف تھے ۔ شنیانگ شہر کے انفارمیشن آفیسر ژانک کینگیانگ نے صحافیوں کو بتایا کہ لیو شیاؤبو کی آخری رسومات آج صبح ان کے اہل خانہ کی خواہش پر مذہبی روایات کے مطابق ادا کردی گئیں ہیں اور اس موقع پر ان کی بیوی بھی موجود تھیں اور انہیں لیو شیاوبوکی باقیات سونپ دی گئی ہیںاور جہاں تک ان کی معلومات ہے تو محترمہ لیو شیاؤبو اب آزاد ہیں ۔ انہوں نے بتایاکہ وہ اپنے شوہر کے انتقال سے کافی رنجیدہ ہیں ، اس لئے اہل خانہ کی خواہش ہے کہ شوہر کے انتقال کے بعدوہ بیرونی مداخلت پسند نہیں کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکمہ قانون کے تحت چینی شہری کی حیثیت سے ان کے حقوق کی حفاظت کرے گا۔قابل ذکر ہے کہ لیو شیاؤبو کو 2009 ء میں ایک مبینہ اشتعال انگیز مضمون لکھنے کے الزام میں 11 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور ان کی بیوی کو چینی حکومت نے نظربند کر دیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT