Friday , June 22 2018
Home / مذہبی صفحہ / مؤمن کا قتل… گناہِ عظیم

مؤمن کا قتل… گناہِ عظیم

قاری سید متین علی شاہ قادری

قاری سید متین علی شاہ قادری
اسلام دین رحمت اور امن عالم کا داعی ہے، اپنے ماننے والوں کو قدم قدم پر صبر و تحمل اور اعتدال و توازن کی تلقین کرتا ہے۔ دنیا کو احترامِ آدمیت، حرمتِ انسانیت اور محبت و یگانگت کا درس دینے والے مسلمان آج خود نفرت و تصادم، افتراق و انتشار اور جبر و تشدد کا شکار ہیں۔ اسلام میں کسی انسانی جان کی قدر و قیمت اور حرمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بلاوجہ کسی ایک فرد کے قتل کو اُس نے پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تکریمِ انسانیت کے تعلق سے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: ’’جس نے کسی شخص کو قتل کیا، گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا‘‘ (سورۂ مائدہ) ’’اور جو شخص کسی مسلمان کو قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے‘‘۔ (سورۃ النساء)

قتل کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک مؤمن کے جسم و جان اور عزت و آبرو کی اہمیت کعبۃ اللہ سے بھی زیادہ ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خانۂ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا: ’’اے کعبہ! تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے! مؤمن کی جان و مال کی حرمت اللہ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مؤمن کے بارے میں نیک گمان رکھنا چاہئے‘‘۔ (ابن ماجہ)

حضرت عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مؤمن کو قتل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام دنیا کے برباد ہونے سے بُرا ہے‘‘ (نسائی) حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک پوری کائنات کا ختم ہو جانا کسی شخص کے قتلِ ناحق سے ہلکا ہے‘‘۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قاتل جنت کی خوشبو سے بھی محروم رہے گا، جب کہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے آتی ہے‘‘ (بخاری) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے مسلمانوں پر اسلحہ اُٹھایا، وہ ہم میں سے نہیں‘‘ (صحیح بخاری) حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ننگی تلوار لینے دینے سے منع فرمایا، کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ شاید شیطان اس کے ہاتھ سے تلوار چلوادے اور پھر وہ دوزخ کے گڑھے میں جاگرے‘‘ (صحیح بخاری) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خونریزی کا فیصلہ سنایا جائے گا‘‘

(بخاری) حضرت عبد اللہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے کسی مؤمن کو قتل کیا، اللہ تعالیٰ اس کی کوئی نفل و فرض عبادت قبول نہیں فرمائے گا‘‘ (ابوداؤد) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمان وہ ہے، جس کے ہاتھ اور زبان کے شر سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں‘‘۔ مذکورہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک جان کا ناحق قتل کرنے والوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ انھوں نے ایک نفس کو نہیں، بلکہ پوری کائنات کی حرمت پر حملہ کیا اور اس کا گناہ اس طرح ہے، جیسے کسی نے پوری کائنات کو تباہ کردیا۔
اخبارات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قتل اور جوابی قتل کا سلسلہ اب معمول بن چکا ہے۔ ہر قتل کے پس پردہ کوئی قتل چھپا ہوتا ہے اور اکثر اوقات مقتول خود کئی افراد کا قاتل ہوتا ہے، تاہم افسوس اس بات پر ہے کہ اکثر وارداتِ قتل کے پیچھے انتہائی معمولی وجوہات ہوتے ہیں۔ ایک انسان کی ہلاکت سے کئی خاندان مسائل میں اُلجھ جاتے ہیں اور بسا اوقات نان و نفقہ تک کے محتاج ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف قاتل بھی اپنے عملِ بد کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا اور اس کی زندگی ڈر و خوف کے سائے میں ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے افراد معاشرہ کی نظروں میں گر جاتے ہیں، ایسے لوگوں سے اور اُن کے افرادِ خاندان سے کوئی بھی شریف انسان تعلقات نہیں رکھتا۔ علاوہ ازیں پولیس اور عدالت کے چکروں میں ذہنی سکون ختم ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ عدالتی کشاکش و مقدمہ بازی کی وجہ سے اپنی جائداد اور مال و دولت سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔

قتل و خونریزی کے واقعات پر محض اظہار افسوس کرکے خاموش بیٹھ جانا اور اس کی روک تھام کے تدارک سے گریز کرنا، کسی مسلمان کے لئے مناسب نہیں ہوسکتا۔ مسلمانوں کی مذہبی تنظیموں، اداروں اور انجمنوں کے علاوہ سیاسی و سماجی قائدین، علماء و مشائخ، مساجد کے ائمہ و خطباء اور مدارس کے ذمہ داروں کو سنجیدگی سے معاشرہ کے اس سنگین و حساس مسئلہ پر غور و فکر کرکے کوئی مناسب لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے۔ دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو باہمی اتحاد و اتفاق اور محبت و اخوت کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

TOPPOPULARRECENT