Tuesday , December 11 2018

مئی کا مہینہ

آیا جب سے مئی کا مہینہ تب سے ہی ہے جسم پسینہ راتوں میں ہیں گرم ہوائیں راتوں میں آرام نہ پائیں گرمی میں باہر نہیں جانا پڑھ لکھ آرام سے سونا دیواریں ہیں دھوپ سے تپتی اور فطرت ہے دھوپ سے بچتی سڑکیں بھی ویران پڑی ہیں عقلیں بھی حیران پڑی ہیں گرمی سے بچتے ہیں پرندے گرمی سے مرتے ہیں پرندے شکر حق جتنا بھی کریں ہم

آیا جب سے مئی کا مہینہ
تب سے ہی ہے جسم پسینہ
راتوں میں ہیں گرم ہوائیں
راتوں میں آرام نہ پائیں
گرمی میں باہر نہیں جانا
پڑھ لکھ آرام سے سونا
دیواریں ہیں دھوپ سے تپتی
اور فطرت ہے دھوپ سے بچتی
سڑکیں بھی ویران پڑی ہیں
عقلیں بھی حیران پڑی ہیں
گرمی سے بچتے ہیں پرندے
گرمی سے مرتے ہیں پرندے
شکر حق جتنا بھی کریں ہم
حق کا شکرانہ ہے ظفرؔ کم
ظفر فاروقی

TOPPOPULARRECENT