Monday , December 11 2017
Home / سیاسیات / مئی 2019 ء کے بجائے آئندہ سال عام انتخابات کا امکان!

مئی 2019 ء کے بجائے آئندہ سال عام انتخابات کا امکان!

ناقابل قیاس مودی ایک اور اچانک فیصلے کیساتھ سب کو حیرت زدہ کرسکتے ہیں
نئی دہلی 17 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی آیا مئی 2019 ء میں مقررہ شیڈول سے قبل آئندہ سال کے وسط میں ہی عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کرتے ہوئے سب کو حیرت میں ڈال سکتے ہیں؟ اچانک چونکا دینے والے فیصلوں کے سبب ناقابل قیاس سمجھنے جانے والے وزیراعظم مودی سیاسی اشاروں کے مطابق کیا ایسی صورتحال کا فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں جس میں کوئی بھی سیاسی جماعت یا لیڈر اُنھیں سیاسی و انتخابی سطح پر چیلنج کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ علاوہ ازیں آیا وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ آئندہ چند ماہ میں معاشی صورتحال کے مزید بگڑنے سے پہلے ہی قدم اُٹھائیں۔ ان قیاس آرائیوں کو اس لئے بھی تقویت مل رہی ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کو زائد انتخابی مصارف سے نمٹنے کے لئے 164 ارب روپئے کی خطیر رقم منظور کی گئی ہے۔ جس کے بعد انتخابات کا انعقاد عمل میں لانے والے اس دستوری ادارہ نے آئندہ سال کے وسط تک لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات منعقد کروانے اپنی تیاری کا اظہار کیا ہے۔ نریندر مودی اگر ایسا کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ آنجہانی اندرا گاندھی کی حکمت عملی اپنارہے ہیں جنھوں نے 1970 ء کی دہائی میں اچانک انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے اپنے سیاسی مخالفین کو مخمصہ میں ڈال دی تھیں اور مارچ 1971 ء کے انتخابات میں نہ صرف اپوزیشن کے ’عظیم اتحاد‘ کو شکست فاش دی تھیں بلکہ 1969 ء میں کانگریس میں پھوٹ پڑنے کے بعد خود اپنی ہی پارٹی میں موجود مخالفین کو بھی ناکامی سے دوچار کرچکی تھیں۔

مودی کے کئی ناقدین اور سیاسی تجزیہ نگار جن میں پروفیسر رامچندرا گوہا بھی شامل ہیں، اُن (وزیراعظم) کے جارحانہ حکمت عملی کا اندرا گاندھی سے تقابل کیا کرتے ہیں۔ قبل ازوقت انتخابات کے فیصلہ کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ 2014 ء کے انتخابات میں مودی کی مربی اور ریموٹ کنٹرول سمجھی جانے والی تنظیم آر ایس ایس نے بی جے پی امیدواروں کے انتخاب میں کلیدی رول ادا کیا تھا لیکن اس مرتبہ مودی خود یہ انتخاب کرنا چاہتے ہیں۔ بی جے پی کے ماضی کے ریکارڈ کے مطابق اٹل بہاری واجپائی، ایل کے اڈوانی اور دیگر قائدین دو میعادوں کے بعد پارٹی کی صدارت سے سبکدوش ہوچکے تھے۔ موجودہ صدر امیت شاہ کی میعاد جولائی 2018 ء میں ختم ہوگی اور پارٹی روایات کے اعتبار سے اُنھیں تیسری میعاد ملنا دشوار ہے۔ اچھے دن کے منتظر عوام کی دہلیز پر بُرے دن پہونچ رہے ہیں۔ شرح ترقی میں کمی، مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ، پٹرول اور ڈیزل کی وقفہ وقفہ سے بڑھتی قیمتیں، مستقبل قریب میں مزید بگڑنے والی معاشی صورتحال کا اشارہ کررہی ہیں۔ غالباً مودی بھی اس بات کو غنیمت سمجھیں گے کہ صورتحال کے بد سے بدتر ہونے سے قبل ہی انتخاب کے تیزابی امتحان سے گزر جانا ہی بہتر ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT