Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / مائنمار میں انسانیت کے تحفظ کیلئے حکومت ہند سے ٹھوس اقدامات کی اپیل

مائنمار میں انسانیت کے تحفظ کیلئے حکومت ہند سے ٹھوس اقدامات کی اپیل

ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمد محمود علی کی وزیر خارجہ سشما سواراج سے نمائندگی ، سعودی عرب اور بنگلہ دیش کے سفیروں سے بھی ملاقات

حیدرآباد۔8 ستمبر (سیاست نیوز) مائنمار میں مسلمانوں کی نسل کشی اور انسانیت سوز مظالم سے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی تڑپ اٹھے اور انہوں نے آج نئی دہلی میں وزیر خارجہ سشما سوراج اور سعودی عرب و بنگلہ دیش کے سفیروں سے ملاقات کرکے نسل کشی روکنے فوری مداخلت اور متاثرین کیلئے امداد کی اپیل کی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے سشما سوراج سے ملاقات کے دوران وزیراعظم کے دورۂ مائنمار کا تذکرہ کیا اور کہا کہ مرکزی حکومت کو مائنمار حکومت پر دبائو بنانا چاہئے کہ وہ مسلمانوں کی نسل کشی فوری روک دے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی ایک عظیم جمہوریت ہے اور وہ مائنمار جیسے ممالک کو انسانیت سوز جرائم سے روک سکتا ہے۔ سشما سوراج نے محمود علی سے کہا کہ مرکزی حکومت کسی بھی ملک میں مذہب یا نسل کے نام پر خونریزی کی تائید نہیں کرتی۔ مائنمار میں جو واقعات پیش آرہے ہیں، ان سے ہندوستان بھی فکرمند ہے۔ انہوں نے اس مسئلہ پر وزیراعظم نریندر مودی سے بات کرنے کا تیقن دیا اور کہا کہ تلنگانہ کے مسلمانوں کے حوالہ سے وزیراعظم سے خواہش کی جائیگی کہ وہ مائنمار حکومت پر قتل و غارتگری روکنے دبائو بنائیں۔ محمود علی نے کہا کہ ہندوستان میں 25 کروڑ مسلمان ہیں جو میانمار کی صورتحال سے بے چین ہیں حکومت ہند کو ان کے جذبات کا احترام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلس پر جو تصاویر پیش کی جارہی ہیں وہ دل کو دہلادینے والی ہیں۔ وزیراعظم مودی نے میانمار کی قائد آنگ سان سوچی سے ملاقات کے دوران موجودہ صورتحال کے خاتمہ کیلئے اقدامات پر زور دیا تھا۔ محمود علی نے کہا کہ اگرچہ وزیراعظم کی تشویش باعث خیرمقدم ہے تاہم مائنمار حکومت پر مزید دبائو بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے برما کے مسلمانوں کو شہریت سے محروم رکھنا افسوسناک ہے جبکہ وہ برسوں سے وہاں مقیم ہیں۔ انہوں نے مائنمار میں انسانیت کے تحفظ کیلئے حکومت ہند سے ٹھوس اقدامات کی اپیل کی۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے ہمراہ رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر کیشور رائو اور دہلی تلنگانہ حکومت کے نمائندے وینوگوپال چاری موجود تھے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے سعودی عرب اور بنگلہ دیش کے سفیروں سے ملاقات کی اور روہنگیا مسلمان پناہ گزینوں کی مدد پر زور دیا۔ انہوں نے بنگلہ دیشی سفیر سے کہا کہ وہ پناہ گزینوں کیلئے سمندر کے راستے کو کھلا رکھیں۔ یہ واحد راستہ ہے جہاں سے پناہ گزین اپنی جان اور عزت و آبرو کو بچا کر بنگلہ دیش پہنچ رہے ہیں۔ اس راستے کو بند کرنے سے پناہ گزین غرقاب ہورہے ہیں۔ بنگلہ دیشی سفیر نے کہا کہ ان کا ملک پہلے ہی سیلاب کی تباہی سے دوچار ہے اور 30 لاکھ پناہ گزین ملک میں موجود ہیں۔ سعودی سفیر سعود السعتی سے ملاقات میں محمد محمود علی نے پناہ گزین کی امداد کیلئے سعودی عرب سے بنگلہ دیش کو مالی تعاون کی اپیل کی۔ سعودی سفیر نے بتایا کہ سعودی میں برما کے 10 لاکھ پناہ گزین ہیں۔ انہوں نے سعودی سے خواہش کی کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے مسئلہ کو اقوام متحدہ میں اٹھائیں۔ اسکے علاوہ مسلم ممالک کا اجلاس طلب کرکے متحدہ حکمت عملی طے کی جائے۔ سعودی سفیر نے تیقن دیا کہ وہ ڈپٹی چیف منسٹر کے جذبات کی ترجمانی اپنی حکومت سے کرینگے ۔

TOPPOPULARRECENT