Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / مائنمار کے مظالم پر چیف منسٹر کا اظہار تشویش

مائنمار کے مظالم پر چیف منسٹر کا اظہار تشویش

ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کی نمائندگیوں کی ستائش
حیدرآباد۔/9ستمبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مائنمار میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام اور ظلم و بربریت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مائنمار کے واقعات کو انسانیت سوز اور انسانی حقوق کی پامالی سے تعبیر کیا۔ نئی دہلی میں آج ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کے سی آر سے ملاقات کرتے ہوئے ان کی مزاج پرسی کی۔ کے سی آر آنکھ کے آپریشن کے بعد دہلی میں آرام کررہے ہیں۔ ملاقات کے موقع پر ڈپٹی چیف منسٹر نے انہیں مائنمار کے مسلمانوں پر مظالم کے سلسلہ میں وزیر خارجہ سشما سوراج اور سعودی و بنگلہ دیش کے سفیروں سے نمائندگی کی تفصیلات بیان کی۔ چیف منسٹر نے اس سنگین مسئلہ پر کی گئی نمائندگی کی ستائش کی اور کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے دباؤ کیلئے محمود علی نے وزیر خارجہ سے بروقت نمائندگی کی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ نمائندگی میں جن باتوں کا تذکرہ کیا گیا وہ اُن کے جذبات کی ترجمانی ہے۔ ملاقات کے موقع پر موجود دیگر قائدین سے چیف منسٹر نے کہا کہ کسی بھی فوج کیلئے غریب اور نہتے افراد کو نشانہ بنانا مناسب نہیں ہے، فوج کا کام انسانی جانوں کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ہی ملک کے باشندوں کو شہریت اور بنیادی سہولتوں سے محروم رکھنا افسوسناک ہے۔ چیف منسٹر نے دہشت گردی کے نام پر روہنگیا آبادیوں کو نشانہ بنانے پر دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ جس انداز میں تفصیلات منظر عام پر آرہی ہیں اس سے انہیں تکلیف پہنچی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی نے بتایا کہ انہوں نے مائنمار کے سفیر سے نمائندگی کیلئے ملاقات کا وقت مانگا تھا لیکن ابھی تک وقت مقرر نہیں کیا گیا۔ محمود علی نے اسی مسئلہ پر مرکزی وزیر اقلیتی اُمور مختار عباس نقوی سے کی گئی نمائندگی کی تفصیلات چیف منسٹر سے بیان کی۔ چیف منسٹر سے ملاقات کے بعد ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ٹی آر ایس کی جانب سے ضرورت پڑنے پر ارکان پارلیمنٹ اس مسئلہ پر مرکزی حکومت سے نمائندگی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ اور دیگر قائدین نے مائنمار کی صورتحال پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ نئی دہلی میں مقیم حکومت کے خصوصی نمائندہ وینو گوپال چاری اس بات کی کوشش کریں گے کہ مائنمار کے سفارتخانہ سے وقت حاصل کریں تاکہ ہندوستانی مسلمانوں کے جذبات سے مائنمار کی حکومت کو واقف کرایا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT