Tuesday , October 23 2018
Home / Top Stories / مابعد نوٹ بندی کے دیانتدارانہ سسٹم پر اگلی نسل کو فخر ہوگا : جیٹلی

مابعد نوٹ بندی کے دیانتدارانہ سسٹم پر اگلی نسل کو فخر ہوگا : جیٹلی

’’ہندوستانی معاشی تاریخ کا فیصلہ کن اقدام ۔ کرپشن ، کالا دھن ، جعلی کرنسی کے خلاف جدوجہد میں کامیابی ‘‘

نئی دہلی۔7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیر فینانس ارون جیٹلی نے ایک سال قبل کئے گئے ہندوستان کے سب سے بڑے نوٹ بندی اقدام کو ملک کی معاشی تاریخ میں فیصلہ کن موڑ قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ اس سے آنے والی نسل کیلئے منصفانہ اور دیانت دارانہ سسٹم فراہم ہوا ہے۔ زیرگشت کرنسی کے 86% حصہ کا چلن منسوخ کردینے کے فیصلے کے ایک سال کی تکمیل کے موقع پر جیٹلی نے کہا کہ اس اقدام سے معیشت میں نقدی کی مقدار کو گھٹانے کا مقصد حاصل ہوا ہے، نقدی کو روپوش رکھنے کا رجحان ختم ہوا ہے، مزید کئی افراد کو ٹیکس سسٹم میں شامل کیا جاسکا ہے اور کالادھن کو کاری ضرب لگی ہے۔ وزیر فینانس نے 1,843 الفاظ پر مشتمل بلاگ بعنوان ’’نوٹ بندی کے بعد ایک سال‘‘ میں کہا کہ 8 نومبر 2016ء اس حکومت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک کو کالے دھن کی خطرناک لت سے پاک کیا جاسکے۔ 8 نومبر 2016ء کی تاریخ ہندوستانی معیشت کی تاریخ میں نمایاں لمحہ کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔ مجموعی تجزیہ میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ملک زیادہ صاف و شفاف اور دیانت دارانہ اقتصادی نظام کی طرف بڑھا ہے۔ اس کے فوائد بھلے ہی بعض لوگوں کو نظر نہیں آرہے ہیں، لیکن اگلی نسل نومبر 2016ء کے بعد والی معاشی ترقی کو فخریہ احساس کے ساتھ یاد کرے گی کیونکہ اس میں ان کے لئے منصفانہ اور دیانت دارانہ سسٹم فراہم کیا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ سال 8 نومبر کو پرانے 500 روپئے اور 1000 روپئے کے نوٹوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے مقاصد میں کرپشن، کالادھن، دہشت گردی اور جعلی کرنسی سے لڑنا ہے۔ چلن سے دستبرداری والی 15.44 لاکھ کروڑ روپئے قدر کی نوٹوں میں سے 15.28 لاکھ کروڑ روپئے 30 جون 2017ء تک واپس جمع کرائے جاچکے ہیں۔ گزشتہ سال 8 نومبر کو 17.77 لاکھ کروڑ روپئے مالیت کی کرنسی زیرگشت تھی۔ جیٹلی نے بتایا کہ مابعد نوٹ بندی زیرگشت کرنسی میں 3.89 لاکھ کروڑ روپئے کی کمی آگئی جس سے کم تر نقدی والی معیشت کے مقصد کی تکمیل ہوئی تاکہ سسٹم میں کالے دھن کے بہاؤ کو گھٹایا جاسکے۔ 15.28 لاکھ کروڑ روپئے کی باقاعدہ بینکنگ سسٹم میں واپسی کے ساتھ معیشت کی پوری نقدی اب صاف و شفاف سسٹم سے مربوط ہوچکی ہے۔ اب کوئی رقم پوشیدہ نہیں۔
جی ایس ٹی زمرہ 28% کے اشیاء میں کمی کا اشارہ
دریں اثناء وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج اشارہ دیا کہ جی ایس ٹی کی سب سے زیادہ شرح والے زمرہ 28% کی اشیاء کی فہرست میں کاٹ چھانٹ کی جائے گی۔ گڈس اینڈ سرویسیس ٹیکس سسٹم کی جولائی سے عمل آوری کے تحت زائد از 1,200 اشیاء اور خدمات کو 5، 12، 18، 28 فیصد کے ٹیکس زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جیٹلی نے کہا کہ بعض ایٹمس 28% شرح کے تحت نہیں آنے چاہئے تھے اور جی ایس ٹی کونسل نے گزشتہ 3، 4 اجلاسوں میں زائد از 100 ایٹمس کی شرحوں میں کٹوتی کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT