Friday , December 15 2017
Home / دنیا / مادھیسیوں کے مطالبات تسلیم، نیپال کے دستور میں ترمیم

مادھیسیوں کے مطالبات تسلیم، نیپال کے دستور میں ترمیم

کھٹمنڈو ۔ 21 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نیپال نے آج ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جس کا خود ملک کی عوام کو بے چینی سے انتظار تھا۔ مادھیسی گروپ جس نے ملک کے نئے دستور میں انہیں نظرانداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے زبردست احتجاج اور راستہ روکو منظم کر رکھا تھا جس کی وجہ سے نیپال میں اشیائے خوردنی اور ایندھن کی شدید مصنوعی قلت پیدا ہوگئی تھی لہٰذا مادھیسیوں کے دو اہم مطالبوں کی تکمیل کرتے ہوئے ملک کے دستور میں ترمیم کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت انہیں بھی ملک کی نمائندگی اور حلقہ انتخاب کی حدود کو ختم کرنا شامل ہے۔ بہرحال حکومت نیپال کے اس فیصلہ کا ہندوستان یقینی طور پر خیرمقدم کرے گا۔ یہ فیصلہ نیپالی کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس میں کیا گیا جس کا انعقاد سنگھا دربار میں کیا گیا تھا۔ ایک اور کلیدی فیصلہ یہ بھی کیا گیا ہے مجوزہ صوبائی سرحدوں کی تشکیل کے اندرون تین ماہ جو بھی مسائل پیدا ہوں گے ان کی یکسوئی کے لئے ایک سیاسی میکانزم کی تشکیل کی راہ بھی ہموار کی گئی ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہیکہ مادھیسی سے وابستہ پارٹیاں گذشتہ چار ماہ سے مجوزہ سات صوبوں کی تشکیل کی مخالفت کررہی ہیں جسے نئے دستور میں متعارف کیا گیا تھا اور اس کی وجہ سے مادھیسیوں کی آبائی اراضیات کے تقسیم ہوجانے کا اندیشہ پیدا ہوگیا تھا جس کے بعد مادھیسیوں نے یہ سوچنا شروع کردیا کہ نئی حکومت نے ملک کے دستور میں ان کو صرف حاشیہ پر رکھا ہے۔ انہوں نے بطور احتجاج نیپال کے ہندوستان کے ساتھ تجارتی پوائنٹس کو مسدود کردیا جس سے نہ صرف اشیائے ضروریہ بلکہ ادویات اور ایندھن کی بھی قلت ہوگئی۔ مادھیسیوں نے ماہ اگست سے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا اور کبھی کبھی اس کے پرتشدد ہونے کی وجہ سے 50 افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہیکہ نیپال کی ترائی میں رہنے والے یہ مادھیسی نیپال کی آبادی میں 52 فیصد کا تناسب رکھتے ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا بل کو دستور میں ترمیم کیلئے پہلے ہی پارلیمنٹ میں پیش کیا جاچکا ہے اور اس طرح ملک کی مختلف پالیسی سازی میں مادھیسی گروپ کو بھی نمائندگی فراہم کی جائے گی۔ اسی طرح مادھیسیوں کے حلقہ انتخاب کے حدود کو ختم کرنے کے مطالبات کی تکمیل ہورہی ہے۔ وزیرصنعت سوم پرساد پانڈے نے اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ اس فیصلہ کا یقینی طور پر ہندوستان کی جانب سے خیرمقدم کیا جائے گا جس نے ہمالیائی مملکت سے کئی بار یہ درخواست کی ہے کہ سیاسی مسائل کی یکسوئی کی جانب توجہ مبذول کرتے ہوئے ملک کے دستور کو وسیع تر پیمانے پر قابل قبول بنایا جائے۔ تین نکاتی تجاویز پر کئی مراحل پر بات چیت ہوئی۔ تاہم مادھیسی پارٹیوں نے کچھ پس و پیش کا اظہار کرتے ہوئے مزید وضاحت کی خواہش ظاہر کی۔ علاوہ ازیں مادھیسیوں سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ اپنا احتجاج ختم کردیں کیونکہ ان کے جو بھی مسائل یا مطالبات ہیں، ان کی یکسوئی بات چیت کے ذریعہ ہوجائے گی جن میں شہریت کا مدعا بھی شامل ہے۔ لہٰذا مسٹر پانڈے نے مادھیسیوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے احتجاج سے فوری طور پر دستبردار ہوجائیں۔

TOPPOPULARRECENT