مارمون عیسائیوں کے بانی کی 40 بیویاں تھیں

برلن ، 14 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) یورپ میں مارمون عیسائیوں کی اچھی خاصی تعداد ہے لیکن ان کے قدامت پسندانہ نظریات اور طرز زندگی کے باعث وہاں انہیں بہت دبا کر رکھا گیا ہے۔ مارمون عیسائیوں کے اعلیٰ گرجا گھر کے ذمہ داروں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس فرقہ کے بانی جوزف اسمتھ کی ایک نہیں، دو نہیں بلکہ 40 بیویاں تھیں جن میں صرف ایک بیوی 14 سال ک

برلن ، 14 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) یورپ میں مارمون عیسائیوں کی اچھی خاصی تعداد ہے لیکن ان کے قدامت پسندانہ نظریات اور طرز زندگی کے باعث وہاں انہیں بہت دبا کر رکھا گیا ہے۔ مارمون عیسائیوں کے اعلیٰ گرجا گھر کے ذمہ داروں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس فرقہ کے بانی جوزف اسمتھ کی ایک نہیں، دو نہیں بلکہ 40 بیویاں تھیں جن میں صرف ایک بیوی 14 سال کی عمر کی تھی۔ بقیہ ایسی خواتین تھیں جنہوں نے جوزف کے معتقدین اور ماننے والوں کے ساتھ شادیاں کررکھی تھیں۔ مارمون چرچ 200 برسوں سے یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ جوزف اسمتھ کی صرف ایک بیوی ہی تھی۔ چرچ آف جیسس کرسپٹ آف لیٹرس ڈے بنٹس نے مارمون چرچ اور اس کے بانی کی تاریخ کے مختلف پہلوؤں بشمول جوزف اسمتھ کی کئی عورتوں سے شادیوں پر پردہ ڈالنے کی کوششیں کیں۔ واضح رہے کہ جوزف اسمتھ اور برگھم جس نے سالٹ لیک سٹی کی دریافت میں مدد کی، بتایا جاتا ہے کہ بیک وقت کئی عورتوں کو اپنی بیویاں بنایا۔ اوٹاسٹی مارمون فرقہ کا ہیڈکوارٹر ہے۔

ایل ڈی ایس چرچ کا کرٹ لینڈ اور ناوو میں کثرت ازدواج یا کئی شادیوں کے زیر عنوان ایک مضمون منظر عام پر آیا ہے جس میں بہت ہی محتاط اندازہ لگاتے ہوئے بتایا گیا کہ اس فرقہ کے بانی نے 30 تا 40 عورتوں سے شادیاں رچائیں۔ 1830ء میں یہ چرچ قائم کیا گیا اور 1890ء میں اس نے اس وقت کثرت ازدواج پر پابندی عائد کردی جب امریکی حکومت نے اوٹا کو ریاست کا درجہ دینے کی دھمکی دی۔ مضمون میں مزید کہا گیا کہ جوزف اسمتھ نے اپنی تمام بیویوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم نہیں کئے کیونکہ ان میں سے بعض کو آخرت کی زندگی کیلئے ’’محفوظ‘‘ کرکے رکھا گیا تھا۔ مارمون خود کو عیسائی قرار دیتے ہیں اور بائبل پر بھی ایقان رکھتے ہیں۔ امریکہ میں مارمونوں کی تعداد تقریباً 6.1 ملین، میکسیکو میں تقریباً 1.2 ملین، برازیل میں 1.1 ملین ہے۔ اس کے علاوہ فلپائن ، چلی ،پیرو اور ارجنٹینا میں بھی ان کی آبادی ہے۔ مساچوسٹس کے گورنر مٹ رومنی بھی مارمون عیسائی ہیں۔ انہیں 2012ء کے صدارتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی نے اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT