Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / مارچ تک اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے لیے بجٹ کی اجرائی

مارچ تک اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے لیے بجٹ کی اجرائی

اسمبلی میں سبسیڈی اسکیم پر بحث ، چیف منسٹر کے سی آر کا اعلان
حیدرآباد ۔ 18 ۔ جنوری (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اعلان کیا کہ اقلیتوں ، درجہ فہرست اقوام و قبائل اور پسماندہ طبقات کے لئے خود روزگار اسکیم کے تحت 550 کروڑ روپئے سبسیڈی 31 مارچ تک جاری کردی جائے گی ۔ تلنگانہ اسمبلی میں اقلیتوں اور دیگر طبقات کیلئے کارپوریشنوں کی جانب سے قرض پر سبسیڈی اسکیم پر عمل آوری میں تاخیر کا مسئلہ زیر بحث رہا ۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتی فینانس کارپوریشن سے اسکیمات پر عمل آوری موقوف ہوچکی ہیں اور حکومت سبسیڈی کی رقم جاری کرنے سے گریز کر رہی ہے ۔ اپوزیشن نے کہا کہ غریب طبقات کیلئے تلنگانہ میں روزگار کے مواقع حاصل نہیں۔ ایسے میں وہ چھوٹے کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں لیکن درخواستوں کی منظوری کے باوجود کارپوریشن سبسیڈی کی اجرائی سے قاصر ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جاریہ سال سبسیڈی اسکیم کا اعلان تک نہیں کیا گیا اور گزشتہ دو سال کی منظورہ درخواستیں ابھی بھی سبسیڈی کی اجرائی کی منتظر ہیں ۔ ہزاروں غریب افراد سبسیڈی کیلئے کارپوریشنوں کے چکر کاٹ ر ہے ہیں ۔ اپوزیشن نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ بینکوں کی جانب سے قرض کی اجرائی پر آمادگی سے متعلق مکتوب جاری کئے جا نے کے باوجود کارپوریشن سبسیڈی سے انکار کر رہے ہیں۔ اس مرحلہ پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مداخلت کی اور کہا کہ تمام طبقات کی درخواستوں کیلئے 550 کروڑ روپئے بطور سبسیڈی اجرائی باقی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت 31 مارچ تک یہ رقم بہر صورت جاری کردے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ بجٹ کی تیاری کے سلسلہ میں وہ مختلف طبقات کے ارکان ا سمبلی کے ساتھ اجلاس منعقد کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دیگر اخراجات کو روک کر سبسیڈی کی رقم پہلے جاری کرے گی ۔ جاریہ ماہ کے اختتام تک ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتی طبقہ کے ارکان اسمبلی کے ساتھ اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں آئندہ مالیاتی سال کے بجٹ میں بہبودی اسکیمات پر غور کیا جائے گا ۔ قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی نے کہا کہ گزشتہ دو برسوںکی درخواستوں کی عدم یکسوئی دراصل حکومت کی ناکامی ہے ۔ جس قدر درخواستیں داخل کی گئیں ان میں 30 فیصد بھی کاروبار شروع نہیں ہوسکے۔ انہوں نے حکومت کے اس بیان پر حیرت کا اظہار کیا کہ جاریہ سال سبسیڈی اسکیم کا آغاز نہیں کیا گیا ۔ جانا ریڈی نے کہا کہ 30 فیصد درخواستوں کیلئے بھی سبسیڈی جاری نہیں ہوئی ہے اور غریب اقلیتی افراد سرکاری اداروں کے چکر کاٹ رہے ہیں ۔ کانگریس کے وینکٹ ریڈی نے گزشتہ دو برسوں کی تمام درخواستوں کی عاجلانہ یکسوئی کی مانگ کی ۔ تلگو دیشم کے آر کرشنیا نے اقلیتی اور دیگر طبقات کے کارپوریشنوں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت جان بوجھ کر ان اداروں کو نظر انداز کر رہی ہے ۔ انہوں نے سبسیڈی کیلئے بجٹ کی اجرائی پر واضح تیقن کی مانگ کی ۔ بی جے پی کے کشن ریڈی نے آئندہ بجٹ میں کارپوریشنوں کے بجٹ میں اضافہ کی تجویز پیش کی۔

TOPPOPULARRECENT