Thursday , July 19 2018
Home / مضامین / ماضی کے جھروکے … حیدرآباد کا قدیم نام چچولم تھا … بھاگیہ نگر کبھی نہیں رہا

ماضی کے جھروکے … حیدرآباد کا قدیم نام چچولم تھا … بھاگیہ نگر کبھی نہیں رہا

کیپٹن ایل پانڈو رنگا ریڈی
شہر حیدرآباد کے تعلق سے کسی سند کے بغیر یہ بات مشہور ہے کہ قطب شاہی سلطنت کے پانچویں حکمران قلی قطب شاہ کو دیہاتی حسینہ بھاگ متی سے محبت ہوگئی۔ انھوں نے گولکنڈہ کا تخت حاصل ہونے کے بعد اس سے شادی کی اور موسی ندی کے دائیں کنارے ٹاؤن شپ قائم کرتے ہوئے اسے بھاگ نگر کا نام دے کر اپنی بیوی سے منسوب کیا۔ چند سال بعد اسے حیدرمحل کا خطاب دیا گیا اور اس طرح نئی ٹاؤن شپ کا نام بدل کر حیدرآباد ہوا۔ یہ مفروضہ پر مبنی کہانی یا خیالی باتیں ہیں جو اتنا دہرائے گئے کہ اسے سچ مان لیا گیا۔ اگر ہم ان باتوں کو سچ سمجھیں تو قلی قطب اپنی محبوبہ سے موسی ندی کے دائیں کنارے کسی مخصوص مقام پر باقاعدگی سے ملا کرتے تھے۔ بلاشبہ وہ اسی مقام کے آس پاس رہا کرتی تھی۔ وہ مقام چچولم (موجودہ شاہ علی بنڈہ علاقہ) تھا۔ تاہم، دنیائے تاریخ کے ذی علم حضرات کا اس نتیجے پر اتفاق رائے ہرگز نہیں ہے۔ تاریخ داں حضرات جیسے ہارون خان شروانی نے قرون وسطیٰ کے دکن کی تاریخ میں تحریر کیا ہے کہ عصری اور غیرعصری ذرائع جیسے ’بھاگیماں‘ (رقاصہ) میں کوئی ثبوت موجود نہیں کہ شہر حیدرآباد کو اسی سے منسوب کیا گیا۔ حتیٰ کہ قلی قطب شاہ کے تحریرکردہ کلیات میں بھاگ متی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ تلگو زبان میں تحریر کسی بھی کتاب میں بھاگ متی کا کوئی تذکرہ نہیں پایا جاتا ہے۔
نئے دارالحکومت کا ’’کلیات قلی قطب شاہ‘‘ میں تین مرتبہ حوالہ ہے لیکن ایک بار بھی بھاگ نگر کا ذکر نہیں کیا گیا۔ محمد قلی قطب شاہ کو شیعیت سے قابل لحاظ دلچسپی رہی اور اس کے دیوان میں شامل شاید ہی کوئی شعری تصنیف ہے جس میں پیغمبر اسلام اور چوتھے خلیفہ کی تعریف میں اشعار نہ پائے جائیں۔ ایسا بادشاہ جس کا شیعیت کی طرف میلان ہو اور جو اپنے مشیراعلیٰ میر منیر کو خاصا عزیز رکھتا ہو، اس کے تعلق سے یہی امر قرین قیاس ہوگا کہ وہ اپنے قائم کردہ نئے شہر کا نام حیدرآباد رکھے۔ اس بات کو متعدد دیگر حقائق سے مزید تقویت پہنچتی ہے: ہم جانتے ہیں کہ نئے شہر میں پہلی عوامی عمارت ’بادشاہی عاشورخانہ‘ رہی جو شیعہ اماموں کیلئے تقدس کا مقام ہے؛ چارمینار پر تعمیر خوبصورت مسجد کے پانچ ابواب روایتی شیعہ نہج پر بنائے گئے؛ اور شاہی محلات کے مختلف حصوں کے نام پیغمبر اسلام اور اماموں سے منسوب کئے گئے۔
تلنگانہ کی پہچان زبان یا مذہب پر مبنی نہیں بلکہ تاریخ پر مبنی ہے۔ تاریخ کے بدلتے ادوار میں ثقافتی خصوصیتیں اور سماجی تانے بانے تلنگانہ میں بڑھتے گئے ہیں۔ تلنگانہ کے عوام کو تلگو زبان کی بجائے اپنی تاریخ اور ثقافتی آمیزش کی روایات اپنی پہچان ہونے پر فخر کرتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT