Wednesday , July 18 2018
Home / مضامین / ماضی کے جھروکے خلیج بنگال یا قطب شاہی جھیل!

ماضی کے جھروکے خلیج بنگال یا قطب شاہی جھیل!

کیپٹن ایل پانڈو رنگا ریڈی

تاریخ عملی طور پر معاشیات ہوتی ہے۔ قطب شاہی سلاطین کی حقیقی عظمت دیگر ملکوں کے ساتھ بحری گزرگاہوں سے اُن کی تجارت میں مضمر ہے۔ انھوں نے نہ صرف کاکتیہ سلطنت کے پرانے قلعوں کو مرمت و تزئین نو کے ذریعے بحال کیا، بلکہ کورامنڈل کی پوری ساحلی پٹی میں نئے بندرگاہوں کو فروغ بھی دیا۔ انھوں نے بین الاقوامی تجارت کو بڑھاوا دینے کیلئے علحدہ محکمہ قائم کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے بندرگاؤں (مچھلی پٹنم) میں خشک گودیاں بنائے تاکہ وہاں کشتیوں کی مرمت اور تیاری کے کام انجام دیئے جاسکیں۔ جو اہمیت لوتھل کو وادیٔ سندھ کی تہذیب میں حاصل رہی، وہی معاملہ قطب شاہی سلاطین کیلئے بندرگاؤں کا رہا ہے۔ اسی گودی میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے نہ صرف اپنے جہازوں کی مرمت کے کام کئے بلکہ مشہور مسافر جہاز ’’گلوب‘‘ بھی تیار کیا۔ سامراجی چولا بادشاہوں کا زمانہ گزرجانے کے بعد قطب شاہی سلاطین نے خلیج بنگال کو قطب شاہی جھیل میں تبدیل کیا۔
یہ نسبتاً کمتر معروف حقیقت ہے کہ پرتگالیوں نے جنوبی امریکا سے تمباکو اور مرچ کو ہندوستان میں متعارف کیا۔ یہ دو فصلیں ہندوستان میں سب سے پہلی مرتبہ صرف ساحلی آندھرا خطہ میں اُگائی گئیں۔ یہ فصلوں کی مغربی دنیا میں زبردست مانگ تھی اور قطب شاہی سلاطین نے تاجروں کو حوصلہ بخشا کہ ان کو برآمد کریں۔ اتفاق سے متعلقہ تاجرین ہندو تھے۔ یہ بالکلیہ پہلی مرتبہ ہوا کہ ہندوستان نے غذائی فصلیں دیگر ملکوں کو برآمد کئے۔ تب ہندوستانی برآمدات میں کپاس کا کپڑا، قیمتی پتھر، ادرک، ہلدی، مرچ اور تمباکو شامل تھے۔ اس کے عوض چونکہ درآمد کیلئے کوئی قابل قدر شئے نہیں تھی، اس لئے بیرونی ممالک چاندی اور سونا کی شکل میں ادائیگی کیلئے مجبور تھے۔ اس طرح ہندوستان میں 2000 قبل مسیح کے بعد 200 عیسوی تک سونے چاندی کی بہت بڑی مقدار میں جمع ہوگئی تھی۔
یوں دوسری مرتبہ ہوا کہ ہندوستان کو ’’سونے کی چڑیا‘‘ کہا جانے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ کیوں آندھرا والوں نے سابقہ جامع صوبہ مدراس سے علحدہ ریاست کیلئے تحریک چلاتے ہوئے محض یہ مطالبہ کیا تھا کہ ’’بے آف بنگال‘‘ کو بحیرۂ آندھرا (Andhra Sea) کا نام دیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT