Saturday , September 22 2018
Home / مضامین / ماضی کے جھروکے محبوب علی پاشاہ اور بِرار

ماضی کے جھروکے محبوب علی پاشاہ اور بِرار

کیپٹن ایل پانڈو رنگا ریڈی
آصف جاہی سلاطین کی پہچان حیدرآباد اسٹیٹ کے سماجی اخلاقیات جیسے مروت اور رواداری اور دردمندی سے ہوتی ہے۔ جب کبھی وہ کوئی علاقہ سے محروم ہوئے، انھوں نے یوں سمجھا جیسے کہ ان کے بدن سے ایک حصہ جدا کردیا گیا ۔ بِرار ایسا ہی خطہ رہا۔ برار عظیم الشان عملداری کا اٹوٹ حصہ تھا اور یہ کپاس کیلئے زرخیز کالی مٹی کیلئے مشہور اور نہایت مالامال علاقہ ہے۔ تاہم، اُس وقت کے وزیراعظم حیدرآباد چندولعل جو سرکاری اُمور میں بدعنوان اور لاپرواہ ثابت ہوئے، اُن کی سرکردگی میں افسرشاہی کی خرابی کے سبب سرکاری خزانوں کا حال کچھ اچھا نہیں تھا۔ انگریزوں نے اس خطہ پر نظریں گاڑ لئے اور اسے قبضے میں لینے بے تاب تھے۔ جب نظامِ وقت کو سکندرآباد میں متعین دستوں کو کارکرد رکھنے کیلئے ادائیگی میں دِقت ہوئی اور بقایاجات درج ہونے لگے، تب ریزیڈنٹ آف حیدرآباد نے حکومت ِ حیدرآباد کو بقایاجات کی ادائیگی کیلئے ترغیب دیتے ہوئے ولیم پالمر اینڈ کمپنی کا قرض دار بنادیا۔ اس کمپنی نے یہ قرض 24% کی سالانہ شرح پر جاری کیا۔ اس کمپنی میں برطانوی ریزیڈنٹ آف حیدرآباد کے شیئرز تھے۔ تاہم، اُس وقت کے گورنر۔ جنرل آف انڈیا ڈلہوزی نے یہ مسئلہ کا جائزہ لیا اور پالمر کا کھاتہ بے باق کردینے سے اتفاق کیا۔ ایک اسکیم ترتیب دی گئی جس میں نظام حکومت کی عملداری والے اضلاعِ برار کو اتنے سال کیلئے انگریزوں کو سونپ دیا حتیٰ کہ قرض چکتا ہوجائے۔ اس میثاقِ 1853ء میں ایک فقرہ شامل رکھا گیا کہ نظم و نسق کے ذریعے حاصل ہونے والی کوئی بھی فاضل آمدنی کو نظامِ وقت کے حوالے کیا جانا چاہئے اور برطانوی حکومت پر کھاتہ پیش کرنا لازم تھا۔ تاہم، انگریزوں نے اس معاہدہ کی تعمیل سے کہیں زیادہ عہد شکنی میں مستعدی دکھائی۔
1857ء کی غدر میں نظامِ وقت نے برطانوی حکومت کا ساتھ دیا۔ اگر انھوں نے تائید و حمایت نہ کی ہوتی تو برطانوی راج کا خاتمہ ہوگیا ہوتا۔ انگریزوں نے مخصوص نوعیت کی ’’قوم تاجران‘‘ کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے نظامِ وقت کو ’’وفادار حلیف‘‘ کا کھوکھلا خطاب دے دیا اور نظام کے ’’نفس کو موٹا کرنے‘‘ کی سعی میں انھیں 21 توپ کی سلامی دی گئی اور اضلاع رائچور اور عثمان آباد کی عملداری بحال کردی گئی۔ تاہم، برار کے مالا مال علاقہ کو اپنے قبضے میں برقرار رکھا۔ برار کی وصولیات سے وہ قرض تو چکتا ہوچکا تھا۔ حتیٰ کہ 50 سال بعد بھی برطانوی حکمرانوں نے وہ علاقہ نظامِ وقت کو واپس نہیں کیا۔ ہم اس کیلئے محبوب علی پاشاہ کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتے کیونکہ ان کی تو ولادت تک نہ ہوئی تھی۔
1902ء میں ’وائسرائے آف انڈیا‘ لارڈ کرزن نے تقاضہ کیا کہ برار کو ہمیشگی میں انگریزوں کو لیز پر دے دیا جائے اور اس ضمن میں بات چیت کیلئے بہ نفس نفیس آئے۔ وہ اپنے معاونین کے ساتھ دو یوم محبوب علی پاشاہ کے ساتھ بند گوشے میں مذاکرات میں جٹے رہے، جبکہ آخرالذکر کو وہاں واحد مشیر ہی اپنے ساتھ رکھنے دیا گیا۔ محبوب علی پاشاہ نے آخرکار اس وقت اپنی مزاحمت ترک کردی جب انھیں اچھی طرح اندازہ ہوگیا کہ برار کوئی بھی حالات میں دوبارہ کبھی حیدرآباد کی عملداری میں بحال ہونے والا نہیں۔ چنانچہ رنجیدہ خاطر محبوب علی پاشاہ نے انگریزوں کے تئیں اپنا رویہ نرم نہیں کیا۔ کرزن کے ساتھ معاہدہ پر بھاری دل کے ساتھ دستخط کے بعد برار کے اضلاع اکولا، امراوتی، یوت محل اور بلڈھانہ برطانوی حکمرانوں کے تحت ہوگئے۔ محبوب علی پاشاہ کو عملاً تسلی کی خاطر Knight Grand Cross Bath (GCB) سے نوازا گیا۔ تاہم، وہ برار سے محرومی کبھی فراموش نہیں کرپائے اور اکثر طنزیہ طور پر کہا کرتے کہ جی سی بی کا اعزاز اس کے سوا کچھ نہیں کہ ‘Gave Curzon Berar’ (برار کرزن کو دے دیا)

TOPPOPULARRECENT