Monday , June 25 2018
Home / مضامین / ماضی کے جھروکے محبوب علی پاشاہ ۔ رعایا کے ’محبوب‘ فرمانروا

ماضی کے جھروکے محبوب علی پاشاہ ۔ رعایا کے ’محبوب‘ فرمانروا

کیپٹن ایل پانڈو رنگا ریڈی
محبوب علی پاشاہ کی فرماں روائی حیدرآبادیوں کو آج بھی تلنگانہ، 5 اضلاعِ مہاراشٹرا اور 3 اضلاعِ کرناٹک کی تاریخ میں سنہرے دَور کے طور پر یاد ہے۔ محبوب علی پاشاہ کو اپنے عوام بہت عزیز رہے۔ انھوں نے انیسویں صدی کے اختتامی اکتیس سال کے بعد 20 ویں صدی کے اوائل تک حیدرآباد اسٹیٹ پر حکمرانی کی، اور وہ اپنی سخاوت اور رعایا کے تئیں فیاضی کے سبب اپنی زندگی میں ہی معروف روایتی شخصیت بن گئے تھے۔
موسی ندی 20 ویں صدی کے ابتدائی دہوں تک شہر حیدرآباد کی وقفے وقفے سے طغیانی کے ذریعے تباہی کا سبب تھی۔ وہ منگل 28 سپٹمبر 1909ء کی تاریخ تھی جب حیدرآباد میں شہر سے بہنے والی موسی ندی کی تباہ کن طغیانی کا دردناک نظارہ ہوا۔ یہ سیلابی پانی حیدرآباد کیلئے بڑی تباہی کا سبب ہوا اور لگ بھگ 500 افراد فوت ہوئے۔ اس نازک موقع پر اور کئی دیگر مواقع پر نظامِ ششم نے بلالحاظ مذہب و ملت تمام طبقات کے رواج، اعتقاد اور دِلی جذبات کو ملحوظ رکھا۔ وہ حقیقی معنوں میں سکیولر بادشاہ تھے۔ آصف جاہی سلاطین کے محلوں میں دیگر طبقات کے روایات کا بھی خیال رکھا جاتا تھا۔ تب بیف کھانا جس طرح تنازعہ کا سبب نہ بنتا تھا، اسی طرح دیوالی اور ہولی بھی بہت جوش و خروش سے منائے جاتے تھے۔ بعض قدامت پسند مسلمانوں نے آصف جاہی سلاطین کو مشکوک نظروں سے دیکھا، جن پر یہ شعر صادق آتا ہے ؎
واعظ تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلمان ہوں میں
نظام ششم کی مغلوب دشمن کے تئیں عالی ظرفی سے متعلق ایک اور مثال پیش ہے : کرشنا اور تنگ بھدر دریاؤں کے درمیان ہلالی شکل کی بہت زرخیز پٹی Raichur Doab ہے جو لگ بھگ دو صدیوں تک بہمنی ؍ قطب شاہی بادشاہوں اور وجئے نگر کے حکمرانوں کے درمیان تنازعہ برقرار رہی۔ بعض دیگر نالوں کیلئے بھی ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان خون خرابہ ہوا۔ تاہم، وجئے نگر راج کے زوال کے بعد پرانے شاہی خاندان کی اولاد کو انائیگوندی زمینداری تک محدود کردیا گیا۔ اسے ٹیپو سلطان نے اپنی عملداری میں شامل کرلیا۔ تاہم، تیسری میسور جنگ کے بعد اسے انائیگوندی کے راجہ کو واپس سونپ دیا گیا۔ آخری راجہ کا دیہانت کسی مسئلے کے بغیر 1786ء میں ہوا اور اُس کی بیوہ نے بعد میں ایک لڑکا گود لے لیا۔ لیکن برطانوی حکومت نے اس لڑکے کو اپنایا جانا تسلیم نہیں کیا۔ چنانچہ یہ بڑا قطعہ اراضی اور اُس خاندان کو مقررہ پنشن کی ضبطی ہوگئی، نیز اسے نظام ششم کی عملداری میں سونپ دیا گیا۔ نظام نے اپنے پرانے دشمن کے نمائندہ کے تئیں زیادہ فراخدلی دکھائی، اُس خاندان کے متبنٰی بیٹے کو تسلیم کیا اور اسے تخفیف شدہ اسٹیٹ قبضہ برقرار رکھنے دیا۔

TOPPOPULARRECENT