Saturday , April 21 2018
Home / Top Stories / مالدیپ میں سپریم کورٹ کا یوٹرن ، اعلیٰ سطحی سیاسی قائدین کی سزائیں برقرار

مالدیپ میں سپریم کورٹ کا یوٹرن ، اعلیٰ سطحی سیاسی قائدین کی سزائیں برقرار

صدر عبداللہ یامین کی ویب سائٹ پر عدالت کے یوٹرن کی ستائش
دنیا کے بیشتر ممالک کا اپنے عوام کو مالدیپ کا سفر نہ کرنے کا انتباہ
سیاسی اُتھل پتھل سے سیاحت پر منحصر معیشت متاثر ہونے کا اندیشہ
مالے۔ 7 فروری (سیاست ڈاٹ کام) صدر مالدیپ نے آج سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کا خیرمقدم کیا جہاں اعلیٰ سطحی سیاسی قائدین کی سزاؤں کو برقرار رکھتے ہوئے دو اعلیٰ ججس کی گرفتاری کے بعد ملک میں ہنگامی حالات کا اعلان کیا گیا ہے جس کی وجہ سے سیاحت کیلئے مشہور جزیری ملک میں افراتفری اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ صدر عبداللہ یامین نے اس وقت بین الاقوامی سطح پر سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی تھی جب انہوں نے گزشتہ ہفتہ سپریم کورٹ کے ،جیل میں قید سیاسی قائدین کو رہا کرنے اور سابق صدر محمد نشید کے خلاف فوجداری معاملات سے دستبردار ہوجانے کے حکم نامہ پر عمل آوری سے انکار کردیا تھا۔ لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے سابق صدر نشید نے کہا تھا کہ وہ جاریہ سال صدارتی انتخابات میں موجودہ صدر عبداللہ یامین کے خلاف میدان میں اُتریں گے۔ جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے ان کے مالدیپ واپس آنے کی راہ بھی ہموار ہوگئی تھی، تاہم منگل کی شب مابقی تین ججس نے 2015ء میں محمد نشید کے خلاف دہشت گردی میں ملوث فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے دیگر 8 سیاسی قائدین کو رہا کئے جانے کا فیصلہ بھی بدل دیا۔ دریں اثناء عبداللہ یامین کی ویب سائٹ پوسٹ میں عدالت کے یو ٹرن کا یامین انتظامیہ کی جانب سے خیرمقدم کیا گیا جس کے بارے میں ججس کا استدلال تھا کہ قبل ازیں کیا گیا فیصلہ صدر موصوف کی جانب سے تشویش ظاہر کرنے کے بعد کیا گیا تھا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ اس وقت مالدیپ میں جو سیاسی صورتِ حال پائی جاتی ہے، اس کے راست اثرات دنیا کے دیگر اہم ممالک پر بھی مرتب ہوئے ہیں جہاں متعلقہ عوام کو مالدیپ کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مالدیپ ایک ایسا جزیری ملک ہے جس کی معیشت کا انحصار سیاحت پر ہے اور جیسا کہ سیاحتی سیزن عنقریب شروع ہونے والا ہے اور بالکل ایسے موقع پر سیاسی اتھل پتھل کی وجہ سے اس کی معیشت متاثر ہونے کے اندیشے ہیں۔ جاریہ ہفتہ کے اوائل میں ہی 15 دنوں کے ہنگامی حالات کا نفاذ کیا گیا ہے جس کے تحت حکومت کو اتنے زیادہ اختیارات حاصل ہوگئے ہیں کہ وہ کسی بھی شخص کو وجہ بتائے بغیر گرفتار کرسکتی ہے اور مقدمہ بھی چلا سکتی ہے جبکہ عدلیہ اور مقننہ کے اختیارات میں بھی زبردست کٹوتی کردی گئی ہے۔ دوسری طرف مالدیپ کے چیف جسٹس عبداللہ سعید اور ایک دیگر جج کو مالے میں منگل کی صبح سکیورٹی فورسیس نے عدالتی کامپلیکس پر کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کرلیا۔ ٹی وی پر قوم کے نام اپنے خطاب میں صدر یامین نے بتایا کہ گرفتار شدہ ججس ان کی (یامین) حکومت کا تختہ پلٹنے کی سازش میں ملوث تھے، لہذا مجھے ملک میں ہنگامی حالات کا اعلان اس لئے کرنا پڑا کیونکہ ان ججس کے خلاف تحقیقات کرنے کوئی دوسرا متبادل نہیں تھا۔ ہمیں بس یہی معلوم کرنا ہے کہ سازش کس حد تک گہری ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ عبداللہ یامین نے اقتدار سنبھالتے ہی ناراض اپوزیشن قائدین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تقریباً تمام کو جیل پہنچا دیا جبکہ اس سلسلے میں انہوں نے اپے سوتیلے بھائی کو بھی نہیں بخشا جو کوئی اور نہیں بلکہ سابق صدر مامون عبدالقیوم ہیں جنہوں نے گزشتہ سال اپوزیشن کی حمایت کی تھی۔ 80 سالہ عبدالقیوم 30 سال تک ملک کے صدر رہے تاوقتیکہ ملک میں 2008ء میں پہلی بار جمہوری طور پر انتخابات منعقد کروائے گئے۔ پیر کے روز مالے میں ہنگامی حالات کے اعلان کے بعد مامون کو نصف شب ان کے مکان سے گرفتار کیا گیا جبکہ محمد نشید نے اس خطہ کے سوپر پاور سمجھے جانے والے ہندوستان سے اپیل کی ہے کہ وہ مالدیپ پر فوج کشی کرے۔ انہوں نے کہا کہ صدر یامین نے ملک میں غیرقانونی مارشل لا کا نفاذ کیا ہے۔ محمد نشید ملک کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستان اپنے ایک قاصد اور اپنی فوج کو مالدیپ روانہ کرے تاکہ ججس اور دیگر سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جاسکے جبکہ ہندوستان نے بھی صدر یامین کے حالیہ اقدامات پر بے چینی کا اظہار کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ صورتحال پر گہری نظر رکھی گئی ہے تاہم محمد نشید کی ہندوستانی فوج بھیجنے کی اپیل پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا جبکہ لندن کی ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی مالدیپ میں گرفتار شدہ ججس کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے انتباہ دیا کہ اس وقت دنیا کی نظریں بحران سے دوچار مالدیپ پر لگی ہوئی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT