Saturday , April 21 2018
Home / Top Stories / مالدیپ میں چیف جسٹساور سابق صدر گرفتار

مالدیپ میں چیف جسٹساور سابق صدر گرفتار

ہندوستان سے فوجی مداخلت کی سابق صدر محمد نشید کی اپیل ، ہندوستانی فوج تیار
کولمبو ؍ مالے ۔ 6 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) مالدیپ کے جلاوطن سابق صدر محمد نشید نے اپنے ملک میں یپدا شدہ تازہ ترین سیاسی بحران حل کرنے کیلئے ہندوستان سے فوجی مداخلت کرنے کی درخواست کی ہے۔ ہندوستانی فوج کی خصوصی کارروائی طریقہ کار کے تحت چوکسی کی ہدایت دیدی گئی۔قبل ازیں عدالت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تصادم کے درمیان صدر عبداللہ یامین نے جزیرہ نما ملک میں رات دیر گئے ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے دو سرکردہ ججوں چیف جسٹس عبداللہ سعید اور جسٹس علی حمید کے علاوہ بشمول سابق صدر مامون عبدالقیوم متعدد اپوزیشن قائدین کو گرفتار کرلیا۔ ان تمام کے خلاف الزامات یا کسی تحقیقات کے بارے میں تفصیلات کا اعلان نہیں کیا گیا۔ انتہائی پرتعیش ہوٹلوں اور تفریح گاہوں کیلئے مشہور بحرہند کے اس چھوٹے سے جزیرہ میں صدر یامین عبداللہ کی حکومت اس وقت اپنی طاقت کے مظاہرے پر اتر آئی جب سپریم کورٹ نے گذشتہ ہفتہ کئی سرکردہ محروس اپوزیشن قائدین کو رہا کردینے کا حکم دیا تھا۔ حکومت نے کل رات دیر گئے 15 دن کیلئے ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کی تھی، جس کے ساتھ ہی حکومت کو گرفتاریوں، تلاشی، جائیدادوں کی ضبطی کے علاوہ اسمبلی کی آزادیوں کو محدود کرنے کے وسیع تر اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔ یامین 2013ء میں برسراقتدار آنے کے بعد سے شہری آزادیوں کے خلاف مسلسل کارروائیاں کرتے رہے ہیں جن کے ذریعہ ان کی مخالفت کرنے والے ہر سیاستداں کو قید یا پھر جلاوطنی کیلئے مجبور کیا جارہا ہے۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے اعلان کے فوری بعد سیکوریٹی فورسیس سپریم کورٹ میں داخل ہوگئے اور دو سرکردہ ججوں کو گرفتار کرلیا جن میں چیف جسٹس عبداللہ سعید بھی شامل ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ان کے خلاف کیا الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ اس عدالت کے دیگر دو ججوں کا منگل کی صبح تک بھی کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ بعدازاں سابق ڈکٹیٹر اور اپوزیشن سیاستداں مامون عبدالقیوم کو ان کی دختر کی طرف سے سیل فون پر لی گئی تصویر میں دکھایا گیا۔ سیکوریٹی فورسیس کی آمد اور گرفتاری کے بعد وہ خاموشی کے ساتھ اپنے دوستوں اور حامیوں کی طرف ہاتھ لہراتے ہوئے اپنی رہائش گاہ سے روانہ ہوگئے۔ مامون نے اپنی گرفتاری سے کچھ دیر قبل ٹوئیٹر پر لکھا تھا کہ پیمانے پر پولیس اور سیکوریٹی فورسیس کی کثیر تعداد نے ان کے گھر کا محاصرہ کرلیا ہے۔ ’’یہ میری حفاظت کیلئے ہے یا میری گرفتاری کیلئے…؟ مجھے اس کا کوئی اندازہ نہیں ہے‘‘۔ ان کے وکیل مامون حمید نے کہا کہ مامون عبدالقیوم کے خلاف رشوت کے علاوہ حکومت کو بیدخل کرنے کی کوشش جیسے الزامات ہیں۔ وہ 1978 سے 2008ء تک مالدیپ کے صدر تھے اور ان کے دور میںہی یہ جزیرہ نما ملک ہمہ جماعتی جمہوریت بنایا گیا تھا۔ صدر یامین کے اصل سیاسی حریف اور جلاوطن رہنما محمد نشید نے ایمرجنسی احکام کی سخت مذمت کی ہے اور عوام سے اپیل کی کہ اس غیرقانونی حکم پر تعمیل نہ کی جائے۔ نشید نے ایک بیان میں کہا کہ یہ ایک غیرقانونی اور غیردستوری حکم ہے۔ نشید بھی ان متعدد اپوزیشن قائدین میں شامل ہیں جنہیں رہا کرنے کیلئے سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT