Friday , December 15 2017
Home / مذہبی صفحہ / مالک کی اجازت کے بغیر راستہ نہ بنایا جائے

مالک کی اجازت کے بغیر راستہ نہ بنایا جائے

سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی زرخرید زمین مسجد کے بازو ہے۔ مصلیان مسجد اس مسجد کے قدیم دروازہ کو بند کرکے دروازہ کا رخ زید کی زمین کی طرف بلااجازتِ زید بدل دیئے ہیں۔ ایسی صورت میں مصلیان مسجد کا زید کی زمین پرسے گزرنا درست ہے اور کیا ان کی نمازیں درست ہیں ؟
جواب : صورت مسئول عنہامیں مصلیان مسجد کا بلااجازتِ زید اسکی زمین کوراستہ بناکر اس پرسے گزرنا جائز نہیں ہے۔ فتاوی عالمگیری جلد ۵ کتاب الکراھیۃ باب آداب المسجد والقبلۃ صفحہ ۳۲۰ میں ہے: قال ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی اذا غصب أرضا فبنیٰ فیھا مسجدا … وان جعلھا طریقا لیس لہ ان یمربھا کذا فی المضمرات۔ لہذا زید کو حق ہے کہ وہ دروازہ سابق میں جس رخ پر تھا اسی رخ پر کروادے اور موجودہ دروازہ کوبند کروادے۔

حکمِ جمعہ در مقام ِغیرآباد
سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مقام پر مسجد و درگاہ شریف ہے اس مسجد میں بزمانہء آبادی نماز ہوا کرتی تھی اب وہاں کوئی آبادی نہیں ہے اور دس پندرہ سال سے اس مسجد کو چھوڑکر آبادی میں ایک سنگ بستہ مسجد بنالی گئی جہاں پنجوقتہ نماز کے علاوہ جمعہ بھی ہوتاہے ۔ گاؤں کے باہر (تقریبا چار فرلانگ دور)جو مسجد تھی وہ چھوڑدی گئی۔ لیکن اب چنداختلافات کی وجہ صرف جمعہ کی نماز اداکرنے کے لئے غیرآباد مسجد کو جارہے ہیں۔ ایسی صورت میں کیا آبادی کی مسجد (جہاں پنجوقتہ نماز ہوتی ہے) کو چھوڑ کر صرف جمعہ کی نماز کے لئے آبادی سے باہر کی مسجد کوجانا درست ہے ۔ ؟
جواب : شرعا صحت جمعہ کے شرائط میں سے ‘‘مصر‘‘ بھی ہے اور مصر ایسی آبادی کا نام ہے کہ وہاں مسلمان جن پر نمازجمعہ فرض ہے اس قدر ہوں کہ اس مقام کی بڑی مسجد میں ا ن کے ایکدم جمع ہونے کی گنجائش نہ ہو ۔ولوجوبھا شرائط فی المصلی… وشرائط فی غیرہ المصر والجماعۃ الخ فتح القدیرجلد ۲ صفحہ ۲۲ باب صلاۃ الجمعۃ اور الدرالمحتار کے باب الجمعہ میں ہے: المصر وھو مالا یسع اکبر مساجدہ أھلہ المکلفین بھاوعلیہ فتوی اکثرالفقھاء مجتبی لظھور التوانی فی الأحکام۔بریں بناء آبادی سے باہر جمعہ صحیح نہیں۔ فتح القدیر جلد ۲ صفحہ ۲۲ میں ہے: رواہ ابن شیبۃ موقوفا علی علی رضی اﷲعنہ لاجمعۃ ولاتشریق ولا فطر ولا أضحی الا فی مصر جامع او فی مدینۃ عظیمۃ صححہ ابن حزم ۔
عطاء در زندگی
سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکر کو ایک زوجہ چار لڑکے اور تین لڑکیاں ہیں ، موصوف اپنے حین حیات اپنی جائدادمنقولہ وغیرمنقولہ اِن متعلقین میںتقسیم کردینا چاہتے ہیں بیوی کامہر ادا کرناہے اورکچھ قرض بھی ہے اس کے علاوہ ایک لڑکا ، ایک لڑکی ناکتخداہیں نیز ایک یتیم نواسی کا بھی عقد ہونا ہے۔ ایسی صورت میں شرعا ًبکر اپنے لئے کس قدر رکھ سکتے ہیں اور ہرایک کو کیا دیں۔
جواب : صورت مسئول عنہا میں بکر کواپنی جائداد میں ہرقسم کے تصرف کاحق ہے ۔ انکی زندگی میں اولاد کومطالبہ کا کوئی حق نہیں ، اگر موصوف خود اپنی زندگی میں بلحاظ احکام ِشرع شریف تقسیم کردیناچاہتے ہیں توپہلے بیوی کا زرمہر اور قرض اداکردیں پھر اپنی اور بیوی کی گذر بسر کے لئے جو رکھ لینا چاہتے ہوں وہ رکھ لیں اور جو جائیداد تقسیم کرناچاہتے ہیں اس سے لڑکوں اور لڑکیوں کو مساوی مساوی حصہ عطاکریں، اسی طرح نواسی کوجودینا چاہتے ہیں وہ دیںاگر بلااردئہ ضرر کسی کو کم اور کسی کو زیادہ دیںتو کوئی حرج نہیں البتہ کسی کو بالکلیہ محروم کردیں تو یہ عمل نافذ توہوجائیگا مگر بکر گنہگار ہونگے ۔ الدرالمختار برحاشیہ ردالمحتار جلد ۴ کتاب الہبہ میں ہے وفی الخانیۃ لابأس بتفضیل بعض الأولاد فی المحبۃ لانھا عمل القلب وکذا فی العطایا ان لم یقصد بہ الاضرار وان قصدہ یسوی بینھم یعطی البنت کالابن عندالثانی وعلیہ الفتوی ولو وھب فی صحتہ کل المال للولد جاز واثم ۔ فقط واﷲ تعالی أعلم بالصواب

TOPPOPULARRECENT