Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / مالیگاؤں دھماکوں کے ملزم پروہت کی 9 سال بعد جیل سے رہائی

مالیگاؤں دھماکوں کے ملزم پروہت کی 9 سال بعد جیل سے رہائی

قلابہ فوجی اسٹیشن منتقل اور قیام ، یونٹ کو رپورٹ ، معطلی کا فیصلہ عدالتی حکمنامے کے مطالعہ کے بعد
ممبئی ۔ 23 اگست (سیاست ڈاٹ کام) 2008ء کے سلسلہ وار مالیگاؤں دھماکوں کے ضمن میں گرفتار لیفٹننٹ کرنل سریکانت پروہت سپریم کورٹ سے ضمانت کی منظوری کے سبب 9 سال بعد آج جیل سے رہا ہوگئے۔ وہ نوی ممبئی کی تلوجہ جیل میں قید تھے۔ پروہت کو 10:45 بجے دن جیل سے باہر نکلنے کے بعد ایک کار میں بٹھایا گیا۔ ملٹری پولیس ٹیم اور فوج کی سریعی العمل ٹیم انہیں جنوبی ممبئی کے قلابہ میں واقع ایک فوجی اسٹیشن پہنچائی۔ مالیگاؤں دھماکوں کے مقدمہ میں پروہت اپنے مبینہ رول کے سبب جیل میں تھا، جس کو عدالت عظمیٰ نے پیر کو ضمانت دی تھی۔ جسٹس آر کے اگروال اور جسٹس اے ایم سپرے نے کہا تھا کہ وہ بمبئی ہائیکورٹ کے 25 اپریل کو جاری کردہ حکم کو کالعدم کرتے ہیں، جس میں ضمانت دینے سے انکار کردیا گیا تھا۔ 29 ستمبر 2008ء کو شمالی مہاراشٹرا میں ضلع ناسک کے فرقہ وارانہ طور پر حساس پارچہ کے اس شہر (مالیگاؤں) میں ایک بم دھماکہ میں چھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پروہت کو گذشتہ روز این آئی اے کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں مالیگاؤں دھماکوں کے ضمن میں الزامات وضع کرنے کے مسئلہ پر ملزم کے بیان کی سماعت کی جارہی ہے۔ پروہت کے وکلاء نے کل دوپہر سپریم کورٹ سے رجوع ہوکر ضمانت کی شرائط میں ترمیم کی درخواست کی تھی۔ ان وکلاء نے رہائی کے احکام کے حصول کے عمل کا آغاز کیا تھا اور شام میں احکام موصول ہوئے تھے۔ پولیس نے پروہت کو کل شام 6:30 بجے کے کچھ دیربعد ممبئی کی تلوجہ جیل منتقل کیا تھا، جہاں ایک فوجی گاڑی پروہت کو لینے کیلئے پہنچی تھی۔ تاہم ضابطوں کی تکمیل نہ ہونے کے سبب واپس جانا پڑا تھا۔ تاہم آج تمام ضابطوں کی تکمیل کے بعد پروہت کی رہائی عمل میں آئی۔ فوجی ہیڈکوارٹرس سے موصولہ اطلاع کے بموجب لیفٹننٹ کرنل پروہت نے جنہیں گرفتاری کے بعد خدمات سے معطل کردیا گیا تھا، آج فوج کے جنوبی کمان ممبئی میں رپورٹ کی۔ ان کا تعلق گرفتاری سے قبل انٹلیجنس کور پونے سے تھا اور امکان ہیکہ وہ اسی یونٹ میں واپس کردیئے جائیں گے۔ یونٹ میں قیام کے دوران ان پر مختلف تحدیدات بشمول یونٹ کے اندر ان کی نقل و حرکت پر امتناع عائد رہے گا۔ عدالت کے حکمنامہ کا جائزہ لینے کے بعد ان کی معطلی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT