Sunday , November 19 2017
Home / ہندوستان / مالیگاؤں دھماکے مقدمہ : ملزم کرنل پروہت کی ضمانت منظور

مالیگاؤں دھماکے مقدمہ : ملزم کرنل پروہت کی ضمانت منظور

مہاراشٹرا اے ٹی ایس اور این آئی اے چارج شیٹ میں تضاد ، ملزم کو ضمانت کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا:سپریم کورٹ
نئی دہلی ۔21 اگسٹ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے آج 2008 ء مالیگاؤں بم دھماکہ مقدمہ کے ملزم لیفٹننٹ کرنل سریکانت پروہت کی ضمانت منظور کرلی ۔ عدالت نے یہ احساس ظاہر کیا کہ مہاراشٹرا انسداد دہشت گردی اسکواڈ ( اے ٹی ایس ) اور نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے ) کی دائر کردہ چارج شیٹ میں تضاد پایا جاتا ہے ۔ عدالت نے کہاکہ محض اس بناء پر کہ ایک طبقہ کے احساسات اُن کے خلاف ہیں اس لئے ضمانت کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا ۔ این آئی اے نے اضافی چارج شیٹ پیش کی جو ا ے ٹی ایس کی دائر کردہ چارج شیٹ سے بالکل متضاد ہے ۔ اس حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ قانونی چارہ جوئی کیلئے طویل وقت درکار ہوگا اور ملزم گزشتہ تقریباً 8 سال 8 ماہ سے جیل میں ہیں لہذا بادی النظر میں ضمانت پر رہا کرنا درست ہوگا ۔ جسٹس آر کے اگروال اور جسٹس اے ایم سپرے پر مشتمل بنچ نے یہ بات کہی ۔ بنچ نے کہاکہ ضمانت منظور کرنے کے مرحلے پر ثبوت کا تفصیلی جائزہ لینا اور تمام دستاویزات کو میرٹ کی بنیاد پر غور کرنا ضروری نہیں ۔ ہر مقدمہ میں مخصوص بنیادوں پر حالات اور حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے ضمانت دی جاتی ہے ۔ اسی طرح ضمانت کے حق سے اس لئے محروم نہیں کیا جاسکتا کہ ایک طبقہ کے جذبات ملزم کے خلاف ہیں۔ کسی شہری کی آزادی بلاشبہ اہمیت کی حامل ہے ، لیکن یہ کسی طبقہ کے تحفظ کے معاملے میں متوازن ہونی چاہئے ۔ ملزم کی شخصی آزادی اور ایجنسی کے تحقیقاتی حقوق کے مابین توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے ۔ این آئی اے اور اے ٹی ایس کی متضاد چارج شیٹ کے بارے میں بنچ نے کہاکہ قانونی چارہ جوئی کے دوران ان کا جائزہ لیا جاسکتا ہے اور اس مرحلے میں عدالت کسی ایک کے موقف کو دوسرے کے مقابلے درست نہیں قرار دے سکتی۔ یہ مقدمہ 29 ستمبر 2008ء سے متعلق ہے جس وقت مالیگاؤں میں ہوئے بم دھماکے میں چھ افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ پروہت کو نومبر 2008ء میں گرفتار کیا گیا ۔ این آئی اے نے اگرچہ درخواست ضمانت کی مخالفت کی لیکن اضافی چارج شیٹ میں اُس نے کہاہے کہ ملزم کے گھر سے جو آر ڈی ایکس برآمد ہوا اُس کے بارے میں سدھاکر چترویدی پر شبہ کیا جارہا تھا لیکن یہ خدشہ ہے کہ اے ٹی ایس نے ہی یہ آر ڈی ایکس رکھا ہوگا۔
فوج معطلی کا جائزہ لے گی
لیفٹننٹ کرنل سریکانت پرساد پروہت سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد اپنے یونٹ کو رپورٹ کریں گے اور فوج اُن کی معطلی کا جائزہ لے گی ۔ فوجی ذرائع نے بتایا کہ پروہت پر بحیثیت آفیسر کچھ پابندیاں رہیں گی اور اُن کی نقل و حرکت رہائشی علاقہ اور اُن کے یونٹ کیمپ تک ہی محدود رہے گی ۔ فوج نے اُن کے خلاف اپریل 2009ء میں کورٹ آف انکوائری کا آغاز کیا تھا ۔ فوجی ذرائع نے بتایاکہ سپریم کورٹ کے احکامات کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیا جائیگا کہ اُن کی معطلی منسوخ کی جائے یا نہیں ۔

TOPPOPULARRECENT