Friday , November 24 2017
Home / ہندوستان / مالیگائوں 2008 ء معاملہ ، جمعیۃعلماء کی کامیاب مساعی

مالیگائوں 2008 ء معاملہ ، جمعیۃعلماء کی کامیاب مساعی

بھگواء دہشت گردوں کی درخواست ضمانت مسترد
ممبئی 12 ؍ اکتوبر(سیاست ڈاٹ کام) دہشت گردی کے جھوٹے الزامات کے تحت گرفتار مسلم نوجوانوں کو رہائی دلانے میں کلیدی کردار ادا کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کو آج اس وقت بڑی کامیابی حاصل ہوئی جب ممبئی کی ایک عدالت نے مہاراشٹرکے مالیگائوں شہر میں  بھگواء دہشت گردوں کی جانب سے کیئے گئے بم دھماکوں کے ملزمین کو اس وقت ضمانت دینے سے انکار کردیا جب جمعیۃ نے ابھینو بھارت نامی بھگواء دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھنے والے ملزمین کی جانب سے دائر کی گئی درخواست ضمانت کی  سماعت کے دوران بطور مداخلت کار عرضی داخل کی اور ان کی درخواست ضمانت کو نا منظور کرانے میں اہم کردار ادا کیا ۔جن بھگواء دہشت گردوں نے درخواست ضمانت داخل کی تھی ان کا تعلق ۲۰۰۸ مالیگائوں بم دھماکہ معاملے سے تھا اور اس کی کلیدی ملزم سادھوی پرگیاسنگھ ٹھاکر ہے ۔ملزمین نے درخواست ضمانت ممبئی کی خصوصی این آئی اے عدالت میں داخل کی تھی جس کی سماعت کے دوران خصوصی جج  ٹیکولے نے اپنے حکم میں کہا کہ بادی النظر میں ملزمین کے خلاف ثبوت و شواہد موجود ہیں لہذا درخواست کو نامنظور کیا جاتا ہے ۔ ملزمین کرنل پروہیت، ، راکیش دہاوڑے، رمیش اپادھیائے  اور سدھاکر دروید نے اپنی درخواست ضمانت میں خود کو  جھوٹے مقدمہ میں پھنسائے جانے کا دعوی کیا تھا اور کہا تھا کہ گذشتہ کئی برسوں سے وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقیدہیں نیز ان سے کی جانے والی تحقیقات کاخاتمہ ہوچکا ہے لہذا انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔ جمعیۃ علماء نے ان دھماکوں سے متاثرہ چند افراد کی ایماء پر درخواست ضمانت کی مخالفت کی تھی اور جمعیۃ کے وکیل شریف شیخ نے  خصوصی عدالت کو بتایا کہ ملزمین کو ضمانت نہیں دی جانی چاہئے کیونکہ ان کے خلاف دیش سے غداری کے پختہ ثبوت و شواہد موجود ہیں نیز یہ سب کٹر بھگواء تنظیم اھینو بھارت کے رکن ہیں جن کا ہندوستان کے آئین پر یقین نہیں ہے اور ترنگا کی بجائے ان کا اپنا الگ جھنڈا ہے ۔   ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقاتی ایجنسیوں نے ان ملزمین کے خلاف جو فرد جرم داخل کی ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہیکہ یہ تمام ملزمین جرم میں برابر کے شریک تھے اورانہوں  ان دھماکوں میں نا صرف کلیدی کردار ادا کیا تھا بلکہ دھماکوں کی سازش کے ہر مرحلے پر وہ شریک تھے ۔ ضمانت عرضداشت کی مخالفت میں جمعیۃ علماء کی ایک ٹیم گذشتہ کئی دنوں سے کام کررہی تھی جس میں ایڈوکیٹ افروز صدیقی، ایڈوکیٹ متین شیخ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم انصاری، ایڈوکیٹ ابھیشک پانڈے، ایڈوکیٹ ارشد سکس ،ایڈوکیٹ چراغ شاہ ودیگر شامل ہیں ۔  واضح رہے کہ ملزمین کے وکیل شریکانت شیوڑے کی عرضداشت پر فیصلہ صادر کرتے ہوئے خصوصی جج نے ضمانت عرضداشت کی سماعت کو ’’ان کیمرہـ‘‘ یعنی کے میڈیا کے نمائندوں او ر دیگر لوگوں کی موجودگی کے بغیر کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے جس کی وجہ سے میڈیا میں ضمانت عرضداشت پرجاری بحث کے متعلق میڈیا میں کوئی خبر نہیں آرہی تھی۔ آج ممبئی کی خصوصی مکوکا عدالت میں صبح سے ہی ملزمین کے اہل خانہ اور موجود تھے اور انہیں امید تھی کہ خصوصی عدالت متذکرہ ملزمین کو ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کریگی لیکن جمعیۃ علماء اور استغاثہ کی مدلل بحث کے بعد خصوصی جج نے ضمانت عرضداشت مسترد کیئے جانے کے حکمنامہ جاری کیا۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹرقانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کے مطابق مزید تین بھگواء ملزمین کی ضمانت عرضداشت پر سماعت ہونا باقی ہے اور جمعیۃ علماء اس کی بھی مخالفت کریگی۔

TOPPOPULARRECENT