Saturday , December 16 2017
Home / ہندوستان / مالی ارتکازسے سرمایہ کار کے جذبات مجروح ہونے کا امکان

مالی ارتکازسے سرمایہ کار کے جذبات مجروح ہونے کا امکان

یوبی ایس ٹی کی رپورٹ ‘ نوٹوں کی تنسیخ اور جی ایس ٹی سے جی ڈی پی میں عارضی انحطاط
نئی دہلی ۔24 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ معیشت کی تائید کرے لیکن مالی ارتکاز کے لائحہ عمل میں کوئی بھی تبدیلی عالمی سرمایہ کاروں کے جذبات مجروح کرسکتی ہے ۔ یو بی ایس نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ عالمی مالی خدمات کی بڑی کمپنی عالمی سرمایہ کاروں کو ہندوستان کے تائید میں سمجھتی ہے اور اس کی وجہ اس کا فروغ پذیر نظریہ ہے لیکن کیونکہ انحطاط پذیر افراط زر کرنسی کے استحکام کی جھلک ایک مستحکم معیشت سے جھلکتی ہے اور جی ڈی پی میں 0.2فیصد اضافہ ہوا ہے جس کو ترقی نہیں کہا جاسکتا ۔ اس لئے مالیہ کی ارتکاز کے لائحہ عمل میں کسی بھی تبدیلی سے عالمی سرمایہ کاروں کے جذبات مجروح ہوسکتے ہیں ۔ یو بی ایس نے کہا کہ حالانکہ حکومت مالیہ کے دباؤ کو فروغ کے احیاء کیلئے استعمال کرسکتی ہے لیکن حکومت کے اخراجات ( سرمایہ کاری بمقابلہ استعمال ) کا اثر زیادہ مرتب ہوتا ہے ۔ مرکزی حکومت پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے ۔ 2017-18ء کے مالیہ کی خسارہ کا نشانہ جی ڈی پی کا 3.2فیصد ہے ۔ تاہم اسے جی ڈی پی کے 0.2فیصد ہونے کی وجہ سے نشانہ کی تکمیل مشکل بلکہ ناممکن ہے ۔ آر بی آئی نے رقومات کی تبدیلی پر منافع کی شرح کم کردی ہے ۔ اس کے علاوہ جی ایس ٹی کی اگلی میعاد میں وصولی کی صورتحال بھی غیر یقینی ہے ۔ ہندوستان کا معاشی فروغ گذشتہ تین سال کا سب سے کم ہوچکا ہے ۔ اپریل تا جون سہ ماہی میں یہ 5.7 فیصد تھا ۔ جب کہ مسلسل تیسری سہ ماہی میں نوٹوں کی تنسیخ کی وجہ سے اس میں خلل اندازی پیدا ہوئی اور پیداواری سرگرمیاں سست رفتار ہوگئیں ۔ حکومت پر کبھی بھی اتنا دباؤ نہیں پڑا تھا کہ وہ معیشت کی تائید کرے ‘ جب کہ سست رفتار جاری ہو ۔ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے تیقن دیا تھا کہ درست وقت ‘ درست کارروائی کی جائے گی تاکہ انحطاط زدہ معیشت بہتر ہوسکے اور کہا تھا کہ حکومت کو خانگی سرمایہ کاروں سے مسائل کا سامنا ہے کیونکہ ان میں اضافہ نہیں ہورہا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاشی فروغ کا انحطاط خلل اندازی کا نتیجہ ہے ۔

TOPPOPULARRECENT