Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / مالی بحران کا شکار چھوٹی صنعتوں کے احیاء کی مساعی

مالی بحران کا شکار چھوٹی صنعتوں کے احیاء کی مساعی

ریاستی بینکرس سے مکمل تعاون کی اپیل ، خصوصی اجلاس میں جائزہ
حیدرآباد۔ 11 جنوری (سیاست نیوز) ریاستی وزیر صنعت کے ٹی آر نے مالی بحران کا شکار چھوٹی صنعتوں کا دوبارہ احیاء کرنے کیلئے انڈسٹری ہیلتھ کلینک سے مکمل تعاون کرنے کی ریاست کے بینکرس سے اپیل کی قرض کی وصولی کیلئے خصوصی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے چھوٹی کمپنیوں کو بند ہونے سے بچانے کا مشورہ دیا۔ آج اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ہیڈآفس کوٹھی پر ریاست کے مختلف بینکرس اور چھوٹی صنعتوں کے نمائندوں صنعتی شعبہ کے تنظیمی نمائندوں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے یہ بات بتائی۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ چھوٹی صنعتوں کے مسائل کا جائزہ لینے اور اس کو حل کرنے کیلئے لیڈ بینک کے زیراہتمام ہر ماہ اضلاع ہیڈکوارٹرس کے ٹاؤن ہال میں اجلاس کا انعقاد کیا جائے گا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ انہیں اس اجلاس میں کئی تفصیلات کا علم ہوا ہے۔ مسائل کیا ہیں، اس کو کس طرح حل کیا جائے اور بینکوں کے تعاون کا بھی اندازہ ہوا ہے۔ ڈسٹرکٹ انڈسٹریل سنٹرس سے تال میل کرتے ہوئے چھوٹی صنعتوں کے احیاء کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ ایم ایس اے آئی صنعتوں کے احیاء کیلئے ’’ریکٹیفکیشن، ری اسٹرکچرنگ، ریکوری‘‘ 3R کی پالیسی اپنانے پر زور دیا۔ بحران کا شکار صنعتوں کے احیاء کیلئے انہیں یونٹ کی طرز پر نشاندہی کرتے ہوئے مسائل حل کرنے۔ قرض ادا کرتے ہوئے ان کمپنیوں سے دوبارہ قرض کی وصولی کیلئے اقدامات کرنے کا بینکوں کو مشورہ دیا۔ وزیر صنعت نے کہا کہ حکومت تلنگانہ صنعتوں کو سہارا دینے اور ان کی حوصلہ افزائی کیلئے کئی منفرد پروگرامس کو متعارف کررہا ہے۔ اسی کڑی کے سلسلے کے طور پر انڈسٹری ہیلتھ کلینکس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کے ذریعہ چھوٹی صنعتوں کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں حل کرنے اور صنعتوں کی مدد کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ اس ہیلتھ کلینک کو آر بی آئی نے نان بینکنگ فینانسنگ کمپنی کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ اس کی تشکیل کا اعزاز سارے ملک میں صرف ریاست تلنگانہ کو حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے بینکرس کو حکومت کی جانب سے قائم کئے گئے انڈسٹری ہیلتھ کلینک کمپنی میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے حصہ دار بننے کا مشورہ دیا ہے۔ چھوٹی صنعتوں کے قیام اور بند پڑی کمپنیوں کے احیاء یا پھر مالی طور پر کمزور ہونے والی صنعتوں کو بینکوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ چھوٹی کمپنیوں کے بقایاجات کو ڈیڈ کھاتوں میں شمار نہ کرنے کی بینکرس سے اپیل کی۔ صنعتوں کے قیام میں خواتین کی بھرپور مدد کرنے کا بھی بینکرس کو مشورہ دیا۔

TOPPOPULARRECENT