Friday , October 19 2018
Home / Top Stories / مانسون سیشن کے پُرسکون انعقاد کیلئے تمام جماعتوں سے تعاون کی خواہش

مانسون سیشن کے پُرسکون انعقاد کیلئے تمام جماعتوں سے تعاون کی خواہش

NEW DELHI, JULY 17 (UNI):-Prime Minister Narendra Modi attending an all party meeting convened by Parliamentary Affairs Minister Ananth Kumar on the eve of the Monsoon session of Parliament,in New Delhi on Tuesday. UNI PHOTO-AK8U

حکومت تمام مسائل پر بحث کیلئے تیار، پارلیمنٹ ہاؤز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین سے وزیراعظم مودی کا خطاب

پارلیمانی سیشن کا آج سے آغاز
نئی دہلی 17 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے آغاز سے قبل وزیراعظم نریندر مودی نے تمام سیاسی جماعتوں سے تعاون طلب کیا اور ایک سودمند و فائدہ بخش سیشن کے انعقاد کو یقینی بنانے کی خواہش کی۔ مانسون سیشن کل سے شروع ہورہا ہے جو 10 اگسٹ کو ختم ہوگا۔ پارلیمنٹ ہاؤز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے توقع ظاہر کی کہ ہر کوئی ملک کے وسیع تر مفاد میں عوامی اہمیت کے حامل مسائل اُٹھائے گا۔ حکومت نے دعویٰ کیاکہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارکردگی کو پُرسکون انداز میں چلانے کو یقینی بنانے میں تعاون کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے بات چیت کے دوران مختلف مسائل پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزیر پارلیمانی اُمور اننت کمار نے اس اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ’’سارا ملک اُمید و توقع کرتا ہے کہ پارلیمنٹ (پُرسکون انداز میں) کام کرے گا اور قومی مفاد کے مسائل پر بحث کی جائے گی‘‘۔ اُنھوں نے کہاکہ مودی نے اجلاس سے کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے اُٹھائے جانے والے مسائل کو حکومت نمایاں اہمیت دیتی ہے۔ اُنھوں نے تمام جماعتوں پر زور دیا کہ وہ سیشن میں اجتماعی طور پر ایک تعمیری ماحول پیدا کریں جس سے قوم کو فائدہ پہونچ سکے۔

وزیر پارلیمانی اُمور کے مطابق اجلاس میں خوشگوار ماحول دیکھا گیا اور تمام جماعتوں نے ایک بامقصد اور فائدہ مند مانسون سیشن کی حمایت کی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت مروجہ قواعد کے مطابق ایوان میں تمام مسائل پر بحث کے لئے تیار ہے۔ اننت کمار نے کہاکہ ’’مانسون سیشن کے دوران پُرسکون انداز میں پارلیمانی کارروائی چلانے کے لئے حکومت کوئی دقیقہ واہگذاشت نہیں کرے گی‘‘۔ انھوں نے دعویٰ کیاکہ کسی رکاوٹ کے بغیر پُرسکون انداز میں پارلیمانی کارروائی کو یقینی بنانے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے پایا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس اجلاس کے دوران کئی مسائل کو اُٹھایا جن میں تعلیمی شعبہ میں تقررات میں درج فہرست طبقات و قبائل کے لئے تحفظات ختم کرنے کا مسئلہ، ملک میں ہجومی تشدد کو روکنے کے لئے سپریم کورٹ ہدایات کے مطابق قانون وضع کرنے کا مسئلہ بھی شامل تھا۔ سماج وادی پارٹی کے لیڈر رام گوپال یادو نے کہاکہ ’’ہم اُس وقت تک ایوان کو کام کرنے نہیں دیں گے تاوقتیکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے تقررات میں درج فہرست طبقات و قبائل تحفظات جاری رکھنے کے لئے حکومت کی طرف سے ٹھوس تیقن نہیں دیا جاتا‘‘۔ عام آدمی پارٹی کے لیڈر سنجے سنگھ نے دہلی حکومت کے خلاف مرکز کے مبینہ امتیازی سلوک کا مسئلہ اُٹھایا اور اُمید ظاہر کی کہ وزیراعظم یہ مسئلہ حل کریں گے۔ وزیر پارلیمانی اُمور اننت کمار نے کہاکہ 18 جولائی سے شروع ہونے والا مانسون سیشن 10 اگسٹ کو ختم ہوگا۔ 24 دن کی مدت میں 18 نشستیں ہوں گی۔ سیشن کے دوران 46 بلس بغرض منظوری زیرغور رہیں گے۔

TOPPOPULARRECENT