Saturday , December 15 2018

ماؤ نواز تشدد سے متاثرہ 7 ریاستوں کی صورتحال پر غور

انتہا پسندی سے نمٹنے تعاون و رابطہ میں اضافہ سے پولیس سربراہان کا اتفاق
بھوبنیشور۔ 9 جون (سیاست ڈاٹ کام) بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ سات ریاستوں کے سرکردہ پولیس افسران نے ماؤنواز تشدد سے موثر انداز میں نمٹنے بین ریاستی رابطوں کو بہتر بنانے سے متعلق اُمور و سائل پر وسیع تر تبادلہ خیال کیا۔ آندھرا پردیش، بہار، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، اڈیشہ، تلنگانہ اور مغربی بنگال سے متعلق رکھنے والے اعلیٰ پولیس افسران سے بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ سات ریاستوں کے بین ریاستی رابطہ اجلاس میں شرکت کی۔ بعدازاں اڈیشہ کے ڈائریکٹر جنرل پولیس آر پی شرما نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ ان افسران نے سرحدوں پر سکیورٹی فورسیس کی تعیناتی بین ریاستی سرحدی علاقوں میں مشترکہ ؍ مربوط انسداد کی سرگرمیوں، انٹلیجنس معلومات کے تبادلے میں باہمی تعاون و رابطہ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایک سینئر عہدیداروں نے کہا کہ افسران نے بائیں بازو کی انتہا پسندی کی سرگرمیوں پر بین ریاستی رابطوں کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیا ہے۔ ڈی جی پی نے کہا کہ یہ کانگریس اڈیشہ میں پہلی مرتبہ منعقدہ ہوئی ہے۔ وزارت اُمور داخلہ کے سینئر سلامتی مشیر کے وجئے کمار نے اجلاس کی صدارت کی۔ اے ڈی جی پی (انٹلیجنس) آندھرا پردیش اے پی وینکٹیشور راؤ، تلنگانہ کے ڈی جی پی ایم مہیندر ریڈی، چھتیس گڑھ کے اسپیشل ڈی جی پی (آپریشن) ڈی ایم او ستی، مغربی بنگال کے آئی جی پی ویسٹرن زون راجیو مشرا، بہار کے اے ڈی جی پی (ضبط و قانون) الوک راج، جھارکھنڈ کے اے ڈی جی پی آر کے ملک، جوائنٹ ڈائریکٹر ایس آئی بی بھونیشور ونینا شرما اور بی ایس پی کے ڈائریکٹر جنرل ارون کمار نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ ارون کمار نے اڈیشہ میں جاری انسداد ماؤ نواز کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ مختلف ریاستوں میں ماؤنواز انتہا پسندی سے متاثرہ اضلاع کے سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کے اقدامات کی ستائش کی۔

TOPPOPULARRECENT