Friday , November 24 2017
Home / ہندوستان / ماڈل شمسی شہروں پر حکومت کی خصوصی توجہ

ماڈل شمسی شہروں پر حکومت کی خصوصی توجہ

وزیراعظم مودی نے کلیدی بنیادی ڈھانچہ کے شعبوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا

نئی دہلی،9 مئی(سیاست ڈاٹ کام) وزیر اعظم نریندرمودی نے پیر کے روز، پٹرولیم اور قدرتی گیس ، بجلی ،قابل تجدید توانائی او رہاؤسنگ سمیت کلیدی بنیادی ڈھانچہ شعبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔مذکورہ جائزہ میٹنگ اپریل کے آخری ہفتے میں کنکٹوٹی سے متعلق بنیادی ڈھانچے کے شعبوں کی نظر ثانی میٹنگ کے فوراََ بعد منعقد ہوئی اورتقریباََ تین گھنٹے تک جاری رہی۔ اس میٹنگ میں وزیر اعظم کے دفتر ، نیتی آیوگ اور حکومت ہند کی تمام تر بنیادی ڈھانچہ شعبوں سے وابستہ وزارتو ں کے سر کردہ افسران نے حصہ لیا۔نیتی آیوگ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے اپنی جانب سے ایک پرزنٹیشن پیش کیاجس کے دوران یہ بات واضح ہوئی کہ قابل تجدید توانائی ، واجبی او ر دیہی ہاؤسنگ اور ایل ای ڈی بلبوں وغیرہ سمیت متعددشعبوں میں قابل ذکر پیش رفت حاصل ہوئی ہے ۔پردھان منتری اجولا یوجناسے ا ب تک خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے 1.98 کروڑکنبوں کو فائدہ حاصل ہوا ہے ۔بنیادی مرکب توانائی کے شعبے میں گیس کا تعاون بڑھ کر 8فیصد ہوگیا ہے ۔ 81 شہروں پر سٹی گیس تقسیم نیٹ ورک کے تحت احاطہ کیا گیا ہے ۔وزیراعظم نے اتھنول بلینڈنگ پر زور دیتے ہوئے ایک ایسا میکنزم وضع کرنے پر اصرار کیا جس سے سب سے زیادہ کاشتکاروں کو فائدہ حاصل ہوسکے ۔انہوں نے کہا کہ دو پیڑھیوں کے دوران قائم ہونے والے حیاتیاتی اتھنول ریفائنریوں کے کام کو مہمیز کیا جانا چاہئے تاکہ اس مقصد کے لئے زرعی فضلات سے فائدہ اٹھایا جاسکے ۔دیہی برق کاری پروگرام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور مجموعی 18452 گاؤں میں سے 13000 گاؤں کو برق کاری کے تحت لایا جاچکا ہے اور بقیہ کو ایک ہزار دنوں کی مدت کے اندر برق کاری سے آراستہ کردیا جائے گا۔ 17۔2016 کے دوران 22 لاکھ سے زائد دیہی بی پی ایل کنبوں کو برق کاری کے فوائد حاصل ہوچکے ہیں اور اسی مدت کے دوران 40 کروڑ سے زائد ایل ای ڈی بلب تقسیم ہوچکے ہیں۔مجموعی بین علاقائی ترسیلی صلاحیت میں خاطر خواہ طور پر اضافہ ہوا ہے اور مئی 2014 سے اپریل 2017 کے دوران 41 گیگا واٹ ترسیلی صلاحیت کا اضافہ کیا جاچکا ہے ۔مجموعی قابل تجدید توانائی پیداوار ی صلاحیت 57 گیگا واٹ سے تجاوزکرچکی ہے اور گزشتہ مالی سال کے دوران 24.5 فیصد کی صلاحیت کا اضافہ درج رجسٹر کیا گیا ہے ۔ 2017 کے مالی سال کے دوران شمسی توانائی میں صلاحیت کے لحاظ سے اب تک کا سب سے زیادہ یعنی 81 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے ۔شمسی اور ہوائی محصولات میں گرڈ مساوات متعارف کرائی گئی ہے اور اب شرحیں فی کلوواٹ گھنٹے کے لحاظ سے چار روپے سے کم ہیں۔
وزیر اعظم موصوف نے چند ایسے نمونہ شمسی شہر قائم کرنے کی تلقین کی کہ جہاں بجلی کی تمام تر ضروریات شمسی توانائی سے ہی پوری ہوسکیں۔اسی طریقے سے کچھ علاقوں کو کلی طور پر مٹی کے تیل کے استعمال سے پاک علاقے بنانے کے لئے بھی کوششیں کی جاسکتی ہیں۔وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ شمسی آلات کی مینوفیکچرنگ کو اعلیٰ ترجیح دی جانی چاہئے تاکہ روزگارکی فراہمی کو فروغ حاصل ہوسکے اور قابل احیا توانائی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکے ۔

TOPPOPULARRECENT