Sunday , July 22 2018
Home / Top Stories / ماہانہ چائے اور بسکٹ پر ایک لاکھ

ماہانہ چائے اور بسکٹ پر ایک لاکھ

گریٹر حیدرآباد کا گریٹ میئر ، کمشنر نے بل پر لگائی روک

حیدرآباد ۔ /3 اپریل (سیاست نیوز) میئر حیدرآباد بی رام موہن کے آفس کے چائے بسکٹ کا بل ماہانہ ایک لاکھ روپئے سے زیادہ ہورہا ہے ۔ ہر ماہ بل کے مصارف میں اضافہ ہونے پر کمشنر جی ایچ ایم سی جناردھن ریڈی نے تین ماہ کے بلز روک دیئے اور عہدیداروں سے استفسار کیا کہ کیا سچ میں مصارف بڑھ گئے ہیں یا اعداد و شمار پیش کرنے میں عملے کی جانب سے کوئی ہیرپھیر کی جارہی ہے ۔ سرکاری اُمور مختلف کاموں کی انجام دہی کیلئے امپریسٹ اماؤنٹ کے تحت فنڈز خرچ کئے جاتے ہیں ۔ میئر حیدرآباد بی رام موہن کیلئے بھی امپریسٹ اماؤنٹ کے تحت ماہانہ 80 ہزار روپئے خرچ کرنے کی گنجائش فراہم کی گئی ۔ اس طرح ڈپٹی میئر بابا فصیح الدین کو ماہانہ 20 ہزار روپئے خرچ کرنے کی گنجائش ہے ۔ تاہم چند ماہ سے میئر کے چائے بسکٹ کے مصارف ایک لاکھ سے زیادہ ہوگئے جس کا جائزہ لینے کے بعد کمشنر جی ایچ ایم سی نے تین ماہ کے بلز روک دیئے ہیں ۔ پہلے مہینے میں 23 ہزار دوسرے مہینے میں 19 ہزار اور تیسرے مہینے میں 17 ہزار کے زیادہ بلز پیش کئے ہیں ۔ کمشنر جی ایچ ایم سی کی ہدایت پر تحقیقات کا آغاز ہوگیا ہے ۔ میئر آفس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران ساتھ رہنے والے میئر کے کئی حامی سینکڑوں کی تعداد میں میئر سے ملاقات کیلئے پہنچتے ہیں ۔ مختلف کاموں کیلئے بھی عوام میئر سے ملاقات کرنے پہنچتے ہیں ۔ میئر مسلسل عہدیداروں کا اجلاس طلب کرتے ہیں ۔ میئر حیدرآباد نے ان سے ملاقات کرنے پہنچنے والے عوام کو پینے کا پانی ، چائے ، بسکٹ کا انتظام کرنے کی ہدایت دے رکھی ہے ۔ میئر آفس میں ہر وقت ان کے حامی اور دوست بھی رہتے ہیں ۔ انہیں دوپہر میں لنچ ، چائے ، اسناکس وغیرہ منگایا جاتا ہے ۔ ہر ہفتہ اسٹانڈنگ کمیٹی کے اجلاس منعقد ہوتے ہیں جس میں چائے ، بسکٹ ، اور اسناکس کے اخراجات بھی میئر کے اکاونٹ میں شمار کئے جاتے ہیں جس سے مقررہ حد سے زیادہ مصارف ہورہے ہیں ۔ پہلے کی بہ نسبت چائے ، بسکٹ اور پانی کے علاوہ دوسری چیزوں کی قیمتوںمیں بھی اضافہ ہوگیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT