Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / ماہ اکٹوبر میں پیاز کی قیمت کم ہونا ممکن

ماہ اکٹوبر میں پیاز کی قیمت کم ہونا ممکن

تلنگانہ کے چار اہم اضلاع میں پیاز کی فصل تقریباً تیار
حیدرآباد ۔ 4 ستمبر ۔ ( سیاست نیوز ) اکثر شہری بالخصوص خواتین سونے کی قیمت پر روزآنہ نظریں مرکوز کرتی ہیں اور اکثر کاروباری مرغ اور اس کے انڈوں کی قیمت پر نظر رکھتے ہیں لیکن آج کل ہر شہری پیاز کی قیمت پر اپنی نظریں مرکوز کئے ہوئے ہے۔ پیاز کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان شہریوں کیلئے ایک اچھی خبر ہے کہ پیاز کی قیمت ممکن ہے کہ ماہ اکٹوبر میں کم ہوجائے چونکہ تلنگانہ کے چار اہم اضلاع میں پیاز کی فصل تکمیل کو پہونچ چکی ہے۔ اور ان فصلوں کی بازار میں آمد کے ساتھ ہی پیاز کی قیمت میں کمی آسکتی ہے جو آج کل شیر مارکٹ سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہوگئی ہے۔ فصلوں کی بازار میں آمد اورعوام تک رسائی کیلئے مزید ایک ماہ درکار ہوگا ۔بتایا جاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ کی 37 ہزار ایکڑ زرعی اراضی پر پیاز کی فصلوں کی کاشت کی گئی جو اپنی تکمیل کے مرحلہ کوپہونچ چکی ہے ۔ محکمہ مارکیٹنگ اور حکومت عوام کو راست فراہم کرنے کیلئے خاص طورپر فصلوں بالخصوص پیاز کی فصلوں پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔ ریاست تلنگانہ کے 4 بڑے اضلاع عادل آباد ، نظام آباد ، محبوب نگر اور میدک میں پیاز کی پیداوار سب سے زیادہ ہوتی ہے اور ان میں سب سے آگے ضلع عادل آبا ہے ،جہاں جاریہ سال بارش بھی کچھ حد تک بہتر ریکارڈ کی گئی ۔ ان چاروں اضلاع کی37 ہزار ایکڑ اراضی سے ایک اندازے کے مطابق 5 لاکھ میٹرک ٹن پیاز کی پیداوار کا اندازہ لگایا جارہا ہے ۔ پیاز کی قیمت میں اضافہ کو لیکر ریاستی حکومت نے رعیتو بازاروں میں 20 روپئے فی کیلو پیاز کو فروخت کرنے کے اقدامات کئے ۔ تاہم پیاز کی قیمتوں میں اضافہ کیلئے تاجرین اور بڑے کاروباری اور بیوپاریوں پر کالابازاری کے الزامات عائدہیں ۔ ان افراد پر یہ بھی الزام ہے کہ انھوں نے عارضی طورپر پیاز کی قلت پیدا کی اورذخیرہ اندوزی کرتے ہوئے منصوبہ بند طریقہ سے اقدام کیا ۔ ان کی حرکت پر ارباب مجاز ، حکومت اقدامات نہیں کرپائی جو عوام کیلئے کافی مصیبت کا سبب بن گئی ۔ ریاست تلنگانہ میں پیاز کی قلت اور ملک بھر میں قلت کو دیکھتے ہوئے پڑوسی ریاست آندھراپردیش نے کرنول کی پیاز کی مارکیٹنگ کو روک دیا اور خود دیگر ریاستوں اڑیسہ ، بنگال اور ٹاملناڈو ریاستوں سے پیاز کو درآمد کررہی ہے تاکہ کرنول کی پیاز کے ذخیرہ کو بعد میں مارکٹ میں لایا جائے ۔ ریاست میں 3.3 میٹرک ٹن پیاز کی عموماً ضرورت پڑتی ہے ۔ تاہم اس مرتبہ صرف 2 میٹرک کے لحاظ سے پیداوار ہوئی جو کافی حد تک پریشانی کا سبب بنی رہی اور باقی کی کسر کالابازاری نے پوری کردی اور عارضی طورپر پیاز کی قلت پیدا کرتے ہوئے کالابازاری کے ذریعہ لاکھوں روپیوں کی آمدنی حاصل کرلی ۔ سرکاری ذرائع اور مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ اگر سب کچھ اندازے کے مطابق ہوجائے تو پھر اکٹوبر سے قبل ہی قیمتوں میں کمی واقع ہوگی ۔ بارش کی کمی ، پیداوار میں گراوٹ اور کالا بازاری کا سلسلہ کے دور امکان ہے بہت جلد ختم ہوگا اور شہریوں کو راحت ملے گی ۔

TOPPOPULARRECENT