Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / ماہ رمضان المبارک کا آغاز ، مساجد و عیدگاہوں کے لیے امداد نظر انداز

ماہ رمضان المبارک کا آغاز ، مساجد و عیدگاہوں کے لیے امداد نظر انداز

حیدرآباد۔ 6۔ جون  ( سیاست نیوز) رمضان المبارک کا آغاز ہوچکا ہے لیکن ریاست میں مساجد اور عیدگاہوں کی تعمیر و مرمت کیلئے ہر سال دی جانے والی امداد ابھی تک جاری نہیں کی گئی۔ گزشتہ سال حکومت نے اس سلسلہ میں 5 کروڑ روپئے جاری کئے تھے اور ہر ضلع کو 50 لاکھ روپئے مختص کئے گئے لیکن جاریہ سال ابھی تک اس سلسلہ میں بجٹ جاری نہیں کیا گیا جس کے باعث مساجد اور عیدگاہوں کے ذمہ دار وقف بورڈ کے چکر کاٹ رہے ہیں ۔ عام طور پر رمضان المبارک کے آغاز سے قبل ہی مساجد کی آہک پاشی اور تعمیر و مرمت کا کام مکمل کرلیا جاتا ہے لیکن عہدیداروں کی لاپرواہی اور حکومت کی عدم دلچسپی کے نتیجہ میں رمضان کے آغاز تک بھی بجٹ جاری نہیں کیا گیا۔ اگر محکمہ فینانس سے بجٹ جاری کردیا جائے ، تب بھی محکمہ اقلیتی بہبود تک پہنچنے میں کئی دن درکار ہیں ۔ ایسے میں مساجد کمیٹیاں اور عیدگاہوں کے ذمہ دار حکومت کی امداد کے منتظر ہیں۔ وقف بورڈ کی جانب سے یہ امداد فراہم کی جاتی ہے ۔ گزشتہ سال ہر ضلع کو 50 لاکھ روپئے فراہم کئے گئے تھے لیکن کسی بھی ضلع کلکٹر نے ابھی تک رقم کے خرچ اور منظوریوں کے بارے میں وقف بورڈ کو رپورٹ پیش نہیں کی۔ زبانی طور پر کہا جارہا ہے کہ مکمل بجٹ خرچ کرلیا گیا لیکن کن مساجد اور عیدگاہوں کو کتنی رقم منظور کی گئی اس کی تفصیلات وقف بورڈ کو روانہ نہیں کی گئیں۔ اسی دوران وقف بورڈ کی جانب سے بیواؤں کے زیر التواء وظیفہ کی رقم جاری کردی گئی۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر محمد اسد اللہ نے بتایا کہ 306 بیوہ خواتین کو 13 ماہ پر مشتمل بقایہ جات کے طور پر جملہ 71 لاکھ 26 ہزار 632 روپئے جاری کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ فیملی کورٹس کی جانب سے بیواؤں کو وظائف مقرر کئے جاتے ہیں اور وقف بورڈ انہیں ادا کرتا ہے ۔ گزشتہ 13 ماہ سے بجٹ کی کمی کے سبب رقم جاری نہیں کی گئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT