Thursday , September 20 2018
Home / ہندوستان / ماہ رمضان میں مساکین کے ساتھ حسن سلوک کریں

ماہ رمضان میں مساکین کے ساتھ حسن سلوک کریں

نئی دہلی ۔ 12 ۔ جون : ( فیاکس ) : شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میں مسلمانوں کو تاکید کی کہ ماہ رمضان کا توبہ و استغفار سے استقبال کریں اور رمضان میں روزوں اور تراویح کی پابندی کے ساتھ مساکین کے ساتھ حسن سلوک کریں ۔ شاہی امام نے کہا 17 جون شاہی مسجد فتح پوری میں روایت قدیم

نئی دہلی ۔ 12 ۔ جون : ( فیاکس ) : شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میں مسلمانوں کو تاکید کی کہ ماہ رمضان کا توبہ و استغفار سے استقبال کریں اور رمضان میں روزوں اور تراویح کی پابندی کے ساتھ مساکین کے ساتھ حسن سلوک کریں ۔ شاہی امام نے کہا 17 جون شاہی مسجد فتح پوری میں روایت قدیمہ کے مطابق رویت ہلال کمیٹی کا جلسہ ہوگا عامتہ المسلمین سے اپیل ہے کہ 29 شعبان کو چاند دیکھنے کا اہتمام کریں اور فتح پوری رویت ہلال کمیٹی کے روبرو شہادت پیش کریں ۔ انہوں نے کہا مولانا محمد میاں ثمر دہلوی باڑہ ہندوراؤ میں رہتے ہیں وہاں مسجد شیخان کے امام ہیں ان کی سنی مرکزی کمیٹی کا فتح پوری میں کوئی دفتر نہیں اور یہاں ان کی کمیٹی کا کوئی اجلاس بھی نہیں ہوتا انہیں فتح پوری مسجد کے نام کا کوئی استعمال نہیں کرنا چاہئے یہ غلط بیانی ہے ۔ شاہی امام صاحب نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ ماہ رمضان میں مسلمان روزوں اور نمازوں میں مشغول رہتے ہیں ان کی عبادتوں میں کوئی خلل نہ ڈالے اس کا پورا بندوبست کیا جائے نیز پانی اور بجلی کی سپلائی سحری و افطار کے وقت کو دھیان میں رکھ کر کیا جائے ۔ پانی کی سپلائی رات کے تین بجے ہونی چاہئے اور بجلی کا انتظام بھی معقول ہونا چاہئے ۔ شاہی امام صاحب نے کہا یوگا ذاتی عمل ہے مسلمان اسے نہیں کرنا چاہتے وہ اس کو ایمان اور عقیدے کے خلاف مانتے ہیں یہ ان کا مذہب سے محبت کا معاملہ ہے جسے بھارت کے آئین نے بھی تسلیم کیا ہے ۔ بھارت میں سیکولرازم ہے جمہوریت ہے وہ یوگا نہ کریں تو یہ ان کا ذاتی عمل ہے ۔ انہیں اس کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا ۔ یوگی ادتیہ ناتھ نے کہا جو یوگا نہ کریں وہ سمندر میں ڈوب جائیں نہ یہ بھارت یوگی کا ہے اور نہ سمندر یوگی کا ہے ۔ یہ لوگ امن کو برباد کرنا چاہتے ہیں اور ہم ایسے اشتعال انگیز بیانات کی مذمت کرتے ہیں اور مرکزی حکومت سے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ شاہی امام نے میانمار میں مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی اور ظلم و تشدد کی شدید مذمت کی انہوں نے اسرائیلی دہشت گردی کی بھی مذمت کی اور یو این او سے مطالبہ کیا کہ حقوق انسانی کے تحفظ میں یو این او اپنا فرض پورا کرے اور جہاں بھی تشدد ہورہا ہے اس کے لیے موثر کارروائی کرے ۔۔

TOPPOPULARRECENT