Sunday , September 23 2018
Home / ہندوستان / مایاوتی کا بی جے پی سے ’نوٹ بندی معافی دیوس‘ منانے کا مطالبہ

مایاوتی کا بی جے پی سے ’نوٹ بندی معافی دیوس‘ منانے کا مطالبہ

لکھنؤ ،8 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام) ایک سال پہلے مرکز کی نریندر مودی حکومت کے نو ٹ بندی کے فیصلہ کو ہندوستان کی تاریخ کا’سیاہ باب’ قرار دیتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) صدر مایاوتی نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو نوٹ بندی کی پہلی سالگرہ پر اپنی پشت تھپتھپانے کی بجائے آج کے دن کو ’نوٹ بندی معافی دیوس‘ کے طور پر منانا چاہیے۔ مایاوتی نے یہاں کہاکہ نریندر مودی حکومت نے انتہائی عجلت میں کافی نا تجربہ کار طریقے سے 500 اور 1000 روپے کی نوٹ بندی کا فیصلہ لیا جس کی وجہ سے ملک کے سوا سو کروڑ غریب، کسان اور دوسرے محنت کشوں کو بے انتہا تنگی، جنجال اور بحران جھیلنے پڑے ۔ یہ فیصلہ واقعی ہندوستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ثابت ہوا ہے ۔ اس لئے میرا خیال ہے کہ بی جے پی کو آج ’اینٹی بلیک منی ڈی ‘ منانے کی بجائے اس کو ’نوٹ بندی معافی دیوس‘ کے طور پر ہی منانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی من مانی، اڑیل اور آمرانہ رویہ کی وجہ سے ملک ایک قسم سے ایمرجنسی کے بحرانی دور سے گزر رہا ہے جس سے نجات پانے کے لیے لوگوں کو بی جے پی حکومت کی طرف سے پھیلائی گئے جذبات کے مکڑ جال سے باہر آنا ضروری ہے ۔ بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ نوٹ بندی کا فیصلہ نمائشی طور پر ملک بھر میں پھیلی وسیع بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا تھا لیکن اس فیصلہ نے صرف اور صرف محنت کشوں کی مشکلات بڑھائی جبکہ سرکاری بدعنوانی ہر سطح پر کم ہونے کے بجائے کافی بڑھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’پیرا ڈائز پیرز کے انکشاف ‘ نے بی جے پی اور اس کے لیڈروں کی قلعی کھول دی ہے ۔بی جے پی اینڈ کمپنی کے قریبی اور خاص کربڑے لوگوں کی بدعنوانی، غیر قانونی اور غیر مناسب سرگرمیاں یکے بعد دیگرے بے نقاب ہونے سے نریندر مودی حکومت کی بدعنوانی کا بھانڈا بھی لگاتار پھوٹتا جا رہا ہے ۔
بدعنوانی کے اس معاملہ میں بھی بی جے پی حکومت کی خاموشی اور غیرفعالیت اب راز نہیں رہی ہے کیونکہ ایسے ہر معاملے میں مودی حکومت ‘مون ورت’ پر چلی جاتی ہے ۔ مایاوتی نے کہا کہ نوٹبندی سے متعدد قسم کے نئے بدعنوانی کے شروتو پیدا ہوا ہے جس کا فائدہ بی جے پی اینڈ کمپنی کے قریبی اور چہیتوں نے ہی اٹھایا ہے .

 

TOPPOPULARRECENT