Tuesday , December 19 2017
Home / Top Stories / مایاوتی کیخلاف بی جے پی لیڈر کا اہانت آمیز تبصرہ

مایاوتی کیخلاف بی جے پی لیڈر کا اہانت آمیز تبصرہ

لکھنؤ میں ایف آئی آر درج ، پارٹی نے دیاشنکر سنگھ کو برطرف کردیا
نئی دہلی ؍ لکھنؤ ۔ 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی اترپردیش یونٹ کے نائب صدر دیاشنکر سنگھ نے آج یہ کہتے ہوئے تنازعہ کھڑا کردیا کہ بی ایس پی لیڈر مایاوتی سب سے زیادہ بولی دہندہ کو پارٹی انتخابی ٹکٹس فروخت کررہی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے سابق چیف منسٹر اترپردیش کا موازنہ ’’فاحشہ‘‘ سے کیا۔ اس کے ساتھ ہی سیاسی طوفان کھڑا ہوگیا اور پارلیمنٹ میں بھی تمام اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا۔ بی جے پی نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے دیاشنکر سنگھ کو پارٹی سے برطرف کردیا ہے۔ بی ایس پی نے صدر مایاوتی کے خلاف اہانت آمیز تبصرے پر دیاشنکر سنگھ کے خلاف ایس سی ؍ ایس ٹی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرایا۔ بی ایس پی قائدین نے کونسل میں قائد اپوزیشن نسیم الدین صدیقی کی قیادت میں حضرت گنج کوتوالی پہنچ کر شکایت درج کرائی۔ اس میں کہا گیا کہ بی جے پی لیڈر کے ریمارکس سے تمام پارٹی کارکنوں اور ملک بھر میں دلت طبقہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ انہوں نے دلتوں کو اشتعال دلانے کیلئے یہ تبصرہ کیا ہے۔ قومی ٹی وی چینلس پر دیاشنکر سنگھ کے تبصرہ کا حوالہ دیتے ہوئے ایک سی ڈی بھی حوالہ کی گئی۔ اس دوران بی ایس پی نے دیا شنکر سنگھ کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کل لکھنؤ میں دھرنا منظم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ریاستی حکومت نے بھی بی جے پی لیڈر کے اس تبصرہ کی مذمت کی اور کہا کہ ایف آئی آر کی بنیاد پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ بی جے پی نے دیاشنکر سنگھ کو تمام پارٹی عہدوں سے برطرف کردیا۔

 

مایاوتی کیخلاف بی جے پی لیڈر کے ریمارکس پر ہنگامہ آرائی

راجیہ سبھا میں غلام نبی آزاد اور مایاوتی کا احتجاج ، ارون جیٹلی کا اظہارمعذرت
نئی دہلی ۔ 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی کے خلاف اترپردیش کے ایک بی جے پی لیڈر کے مبینہ اہانت آمیز ریمارکس پر راجیہ سبھا میں آج زبردست شوروغل اور ہنگامہ آرائی ہوئی جس کے نتیجہ میں قائد ایوان ارون جیٹلی بھی اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اظہارافسوس کیلئے مجبور ہوگئے۔ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے ایوان بالا میں یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ بی ایس پی کے ساتھ ان کی پارٹی (کانگریس) کے اگرچہ سیاسی اختلافات ضرور ہیں لیکن وہ ایسی کسی خاتون کے خلاف اس قسم کے ریمارک کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے جو (خاتون) ایک سیاسی جماعت کی رہنما ہیں اور چار مرتبہ چیف منسٹر رہ چکی ہیں۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ بی جے پی لیڈر کے الفاظ سے ان کی ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے اور اس لیڈر کے خلاف درج فہرست طبقات و قبائل پر مظالم کے انسداد سے متعلق قوانین کے تحت قدمہ درج کیا جانا چاہئے۔ آزاد نے کہا کہ اس شخص کو گرفتار کیا جائے کیونکہ اس قسم کی ذہنیت کہ کسی شخص کی کسی سیاسی جماعت یا کسی عہدہ کیلئے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔

جیٹلی نے کہا کہ وہ اس وقت تک اس مسئلہ سے واقف نہیں تھے جب مملکتی وزیر پارلیمانی امور مختارعباس نقوی نے چند منٹ قبل واقف کروایا تھا۔ جیٹلی نے کہا کہ ’’یہ درست نہیں ہے اور میں ایسے الفاظ کے استعمال کی مذمت کرتا ہوں اور میں اس مسئلہ پر غور کروں گا۔ میں شخصی طور پر معذرت خواہی کرتا ہوں اور میں اپنے وقار کو آپ کے وقار سے وابستہ کرتے ہوئے آپ کے ساتھ کھڑا ہوں‘‘۔ مایاوتی نے برہمی کے ساتھ اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے شادی نہیں کی ہے اور ملک کے سارے پچھڑے ہوئے افراد کو اپنا خاندان تصور کرتی ہوں۔ میں نے ہمیشہ کی ہمیرے مربی کاشی رام کے مشورہ پر صنعتکاروں سے نہیں بلکہ غیر مراعات یافتہ افراد سے عطیات لیتی رہی ہوں اور اترپردیش میں بی ایس پی کو زبردست عوامی تائید بی جے پی حواس باختہ ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈر نے میری ہی نہیں بلکہ اپنی ہی بہن اور بیٹی کی اہانت کی ہے۔‘‘
مایاوتی کیخلاف ریمارکس
بی جے پی کے نائب صدر برطرف
نئی دہلی۔ 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی کے خلاف انتہائی فحش اور اہانت آمیز ریمارکس کرنے والے اترپردیش بی جے پی کے نائب صدر دیاشنکر سنگھ کو ان کی پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے تمام تنظیمی عہدوں سے برطرف کردیا۔ دلت لیڈر کے خلاف ان کے تبصروں کے سبب بی جے پی کو تمام گوشوں سے تنقیدوں سے سخت پشیمانی کا سامنا تھا۔ اترپردیش بی جے پی کے صدر کیشو پرساد موریا نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ دیا شنکر کو بی جے پی کے تمام عہدوں سے برطرف کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں اس قسم کی زبان کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT