Tuesday , July 17 2018
Home / اداریہ / ماینمار ۔ بنگلہ دیش معاہدہ

ماینمار ۔ بنگلہ دیش معاہدہ

وہ آئے ہیں دمِ آخر جو دو گھڑی کیلئے
تمام عمر ستانے کے بعد آئے ہیں
ماینمار ۔ بنگلہ دیش معاہدہ
روہنگیائی مسلمانوں کے بحران کو امریکہ نے ایک بڑی نسل کشی سے تعبیر کیا ہے۔ اس طرح کے واقعات پر ساری دنیا کی نرم آنکھیں نم ہوئی ہیں۔ میانمار کے واقعات پر درندگی اور بربریت جیسے لفظ بھی اس وقت اپنی اہمیت کھوجاتے ہیں۔ میانمار کے مسلمانوں کو بنگلہ دیش کی سرزمین سے واپس لینے کیلئے حکومت کو معاہدہ کرانے کی ضرورت آن پڑتی ہے تو یہ ایک افسوسناک واقعہ کہلاتا ہے۔ اپنے ہی شہریوں کو واپس لینے کیلئے میانمار کی حکمراں نے بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے لاکھوں مسلمانوں کے لئے بنگلہ دیش کی حکومت سے معاہدہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ اپنے آپ ایک افسوسناک کارروائی کہلاتی ہے کیونکہ کوئی حکومت اپنے عوام کو راحت پہنچانے کیلئے شرائط و قواعد پر عمل کرتے دکھائی دے تو ایسے میں ان بے یار و مددگار افراد کے مستقبل کے بارے میں غیریقینی حالات دکھائی دیتے ہیں۔ میانمار کی آنگ سان سوچی سے نوبل انعام واپس لینے کے مطالبات کے درمیان اس حکمراں نے بنگلہ دیش سے معاہدہ کیا ہے کہ میانمار میں فوجی کارروائی کے دوران لاکھوں کی تعداد میں نقل مکانی کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کو واپس لیاجائے گا۔ میانمار کے دارالحکومت نیپی داؤ میں سوچی اور بنگلہ دیش کے وزیرخارجہ محمود علی کے درمیان ملاقات کے بعد روہنگیائی پناہ گزینوں کو قبول کیا جائے گا۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس معاہدہ کی تفصیلات کو ظاہر نہیں کیا گیا مگر بنگلہ دیش کو یہ معاہدہ اس لئے کرنے پر مجبور ہونا پڑا کہ وہ خود ایک بڑے پناہ گزین مسئلہ سے نمٹنے سے قاصر ہے۔ روہنگیائی مسلمانوں کے مستقبل پر فکرمند حکمرانوں نے مائنمار پر دباؤ نہیں ڈالا۔ اگر وہ دباؤ بنائے رکھتے تو میانمار کی حکومت کو اپنی سخت گیر پالیسیوں کو ترک کرنے پر مجبور ہونا پڑتا۔ آنگ سان سوچی سے بات کرتے ہوئے وزیرخارجہ بنگلہ دیش محمود علی کو یہ واضح کرنے کی ضرورت تھی۔ روہنگیائی مسلمان مائنمار کے بھی شہری ہیں ان کے ساتھ غیرانسانی سلوک دور کرنے کی پالیسیوں کو ختم کردینا چاہئے۔ مائنمار کی فوج نے روہنگیائی افراد کے قتل عام، عورتوں کی عصمت ریزی اور ان کے دیہاتوں کو آگ لگا کر تباہ کرنے لوٹ مار کی مرتکب ہوئی ہے۔ اس فوج کے خلاف بین الاقوامی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے تو آئندہ مائنمار میں مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر تشدد کے امکانات کو کم یا ختم کیا جاسکتا ہے۔ چین نے مائنمار میں علاقائی سلامتی اور امن و امان کی بحالی کے مقصد سے قریبی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی ہے تو اسے روہنگیائی مسلمانوں کے بحران کے حل کیلئے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ چین بظاہر اس روہنگیائی مسلمانوں کے بحران کا مستقل حل نکالنے کی مدد کی پیشکش کی ہے۔ اس کے لئے سہ نکاتی منصوبہ بھی تیار کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت جنگ بندی، روہنگیائی مسلمانوں کی میانمار واپسی اور مسئلہ کے طویل مدتی حل کیلئے بات چیت کرنے کی کوشش بھی شامل ہے۔ مائنمار کی ریاست راکھین کی صورتحال سے آج ساری دنیا واقف ہے۔ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مرتکب مائنمار حکومت اور فوج کے علاوہ بدھ مت کے ماننے والوں نے مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کردیا ہے۔ ظلم و زیادتیوں کا شکار مسلمان بڑی تعداد میں سرحد عبور کرکے بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں جہاں ان کی حالت دگرگوں ہوتے جارہی ہے۔ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور زیادتیوں کا نوٹ لینے والے امریکہ کو اب تک اس سلسلہ میں کوئی مضبوط قدم اٹھاتے نہیں دیکھا گیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ انسانی حقوق کے حوالے سے وہ روہنگیائی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو فوری ختم کرنے پہل کرتا۔ اگرچیکہ امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن نے روہنگیائی مسلمانوں کے قتل عام کو نسل کشی قرار دیا ہے اور فوجی حکام کو جرمانہ اور سزاؤں کا صرف انتباہ دیا ہے انتباہ سے کام نہیں چل سکتا۔ بین الاقوامی عدالت میں ان فوجی حکام کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہئے۔ مسلمانوں کے خلاف اس قسم کے بے رحمانہ کارروائیوں نے عام انسانی دلوں کو تڑپا دیا ہے۔ اس مجرمانہ کارروائی میں شامل تمام فوجی عہدیداروں کو سزاء دینے کیلئے فوری کارروائی کی جانی چاہئے۔ مائنمار کی صورتحال کا بہت باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اب بھی شمالی ریاست راکھین میں روہنگیائی مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے۔ انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آنے والے یہ واقعات عالمی عدالت انصاف کی نگاہ سے دور ہوتے ہیں تو یہ بہت بڑی بدبختی اور افسوس کی بات ہے اب جبکہ مائنمار اور بنگلہ دیش میں روہنگیائی مسلمانوں کی واپسی کا معاہدہ ہوا ہے تو ان 6 لاکھ 25 ہزار بے بس مسلمانوں کی واپسی کے عمل کو آسان بنا کر ان کیلئے مائنمار میں محفوظ مستقبل کی یقین دہانی کرانا ضروری ہے۔ عالمی سطح پر مائنمار پر نظر رکھتے ہوئے مسلم نسل کشی کو روکنے کی پرزور کوشش ہونی چاہئے۔

چیک بک کی سہولت ضروری
مرکز کی نریندر مودی حکومت ملک کی معیشت کو اپنے نظریہ سے چلانے کی کوشش میں بعض ایسے منصوبے بنارہی ہے جس سے تاجر برادری اور ملک کی مارکٹ پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ نوٹ بندی کے فیصلہ اور جی ایس ٹی نے ہندوستانی مارکٹ اور معیشت کی کمر توڑ دی ہے۔ اب چیک بک کو ختم کرنے پر غور کئے جانے کی خبریں سرگرم ہوئی ہیں۔ اگرچیکہ حکومت نے چیک بک سہولت کو واپس لینے کی کوئی تجویز نہیں ہونے کی وضاحت کی ہے مگر اس طرح کی وضاحت کے باوجود بینک کاری نظام میں حکومت کی حالیہ مداخلت کو دیکھ کر عوام میں تشویش پیدا ہونا فطری امر ہے۔ حکومت کا ادعا ہیکہ وہ نقدی سے پاک معیشت کو فروغ دینے اپنے عہد کی پابند ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل و الیکٹرانک طریقوں سے کام کرنے کو ترجیح دینا چاہتی ہے۔ ملک بھر میں کیاش لیس لین دین کے چلن کو عام کرنے کی کوشش میں حکومت نے تجارتی سرگرمیوں کو کمزور کردیا اور عوام کیلئے مشکلات کھڑا کردی۔ اب چیک بک کی سہولت ختم کرنے کی تجویز کے ذریعہ ملک کی تجارت اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کو توڑ دینے کی کوشش ہے۔ اس سے حکومت کے خلاف شدید ناراضگی پیدا ہوگئی۔ تجارت پیشہ افراد ہنوز چیک بک سہولت کو پسند کرتے ہیں۔ اگر ملک کی معیشت اور معاشی سرگرمیوں کو کیش لیس کی جانب لے جایا جارہا ہے لیکن اس کے ساتھ چیک بک کا ہونا غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ آر بی آئی ڈاٹا کے مطابق چیک کے ذریعہ صرف ایک ماہ اگست میں 6224.34 بلین کی رقمی منتقلی ہوئی ہے جو ڈیبٹ کارڈ لین دین سے 3 گنا زائد ہے۔ ہندوستان میں عوام کی اکثریت نے ہنوز ڈیجیٹل لین دین کو اختیار نہیںکیا خاص کر چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں رقمی لین دین جاری ہے اور چیک کی سہولت ان کیلئے کافی مددگار ثابت ہوتی ہے جبکہ ان شہروں میں انٹرنیٹ کنکشن کا مسئلہ ہوتا ہے اور بیشتر لوگ فون کا استعمال کرنے، پاس ورڈ کے ساتھ نیٹ ورک کے ہونے سے لاعلم رہتے ہیں۔ اگرچیکہ ڈیجیٹل لین دین سے بروقت رقم ادا ہوجاتی ہے جبکہ چیک کے ذریعہ رقم 2 تا 5 دن بھی رقم جمع ہوتی ہے اس کے باوجود عوام کی اکثریت چیک بک کی سہولت سے ہی مطمئن دکھائی دیتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT