Tuesday , December 12 2017
Home / دنیا / متاثرہ افراد کی واپسی کے ذریعہ میانمار میں عام حالات کی بحالی

متاثرہ افراد کی واپسی کے ذریعہ میانمار میں عام حالات کی بحالی

راکھین اسٹیٹ میں تشدد اور پناہ گزین بحران پر ہندوستان کو گہری تشویش : سشما سوراج
ڈھاکہ۔ 22 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کو میانمار کے راکھین اسٹیٹ میں جاری تشدد پر گہری تشویش ہے اور یہاں متاثرہ افراد کی واپسی کے ذریعہ ہی عام حالات بحال ہوسکتے ہیں۔ وزیر اُمور خارجہ سشما سوراج نے روہنگیا پناہ گزین بحران کے پس منظر میں آج یہ بات کہی۔ تقریباً 6 لاکھ روہنگیا مسلمانوں نے میانمار میں جاری تشدد کے سبب پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں پناہ لی ہے۔ میانمار میں روہنگیائی باشندوں کو نسلی گروپ تسلیم نہیں کرتا اور اس کا یہ موقف ہے کہ وہ بنگلہ دیشی تارکین وطن ہے جو ملک میں غیرقانونی طور پر مقیم ہیں۔ بنگلہ دیش نے اس مسئلہ کی یکسوئی کیلئے میانمار پر دباؤ ڈالنے کیلئے ہندوستان سے مدد کی خواہش کی تھی۔ سشما سوراج نے بنگلہ دیشی ہم منصب کے ساتھ چوتھے مشترکہ مشاورتی کمیشن اجلاس کے بعد کہا کہ میانمار کے راکھین اسٹیٹ کے بڑھتے تشدد پر ہندوستان کو گہری تشویش ہے، تاہم انہوں نے لفظ ’’روہنگیا‘‘ کا استعمال کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ ہم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس صورتحال سے آبادی کی بہبود کو پیش نظر رکھتے ہوئے صبر و تحمل کیساتھ نمٹا جائے۔ سشما اس وقت وزیر خارجہ ابوالحسن محمود علی کی دعوت پر بنگلہ دیش کے دو روزہ دورہ پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ عام حالات اسی صورت میں بحال ہوں گے جب متاثرہ افراد راکھین اسٹیٹ واپس ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ کا طویل مدتی حل یہی ہے کہ راکھین کی تیز رفتار سماجی و معاشی اور انفراسٹرکچر کی ترقی کو یقینی بنایا جائے، جس سے یہاں رہنے والے تمام طبقات پر مثبت اثر پڑے گا۔ (ابتدائی خبر صفحہ 4 پر )

TOPPOPULARRECENT