Tuesday , February 19 2019

متاثرہ کے خاندان کا سی بی آئی تحقیقات کے حکم پر احتجاج کا انتباہ

مقدمہ کی سماعت ریاست کے باہر منتقل کرنے سپریم کورٹ میں درخواست
جموں سے موصولہ اطلاع کے بموجب کتھوعہ عصمت ریزی واقعہ کی متاثرہ لڑکی کے خاندان نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست پیش کرتے ہوئے اس مقدمہ کی سماعت جموں و کشمیر سے باہر منتقل کردینے کی درخواست کی ہے۔ قانونداں دیپیکا تسو اور ایڈوکیٹ جو اب گجراوربکروال طبقہ کا قائد بن چکا ہے طالب حسین یہ درخواست پیش کریں گے۔ جن میں جموں و کشمیر کی صورتحال کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کا حوالہ دیا جائے گا۔ جس کی وجہ سے مقدمہ کی سماعت جموں و کشمیر کے باہر منتقل کرنے کی درخواست دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم منصفانہ اور غیر جانبدار مقدمہ کی سماعت چاہتے ہیں۔ یہ کتھوعہ میں ممکن نہیں ہے جہاں وکلا کوشش کررہے تھے کہ فرد جرم داخل کرنے کا بھی انسداد کیا جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ مقدمہ کی سماعت ریاست کے باہر کسی بھی مقام پر منتقل کردی جائے۔

ادھم پور۔16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) لڑکی کی والدہ نے کہا کہ ’’ہمیں پتہ چلا ہے کہ وہ سانجی رام تھا جس نے اسے ایک پتھر سے مارا تھا اور اس کا اس وقت تک گلا گھونٹا تھا جب تک کہ وہ مر نہیں گئی۔ وہ پتھر کی ضرب سے نہیں مری تھی۔ لڑکی کے حقیقی باپ نے کہا کہ وہ لڑکی کے لیے انصاف چاہتے ہیں۔ اس نے کہا ’’انہیں اطمینان ہے کہ شعبہ جرائم کی تحقیقات اور ان کی عدالت سے درخواست کے مجرم کو سزائے موت دی جائے۔‘‘ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر حکومت مقدمہ کی تحقیقات سی بی آئی کے سپرد کردے تو وہ احتجاج کا آغاز کریں گے۔ شعبہ جرائم نے 8 ملزمین کے خلاف چالان پیش کیا ہے۔ اس نے توثیق کردی ہے کہ سانجی رام نے پولیس کے دو ملازمین کو شہادتیں ذائع کردینے کے لیے 4 لاکھ روپئے ادا کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں لڑکی کے انتقال پر دکھ ہے اور ہم شعبہ جرائم کی تحقیقات پر اعتماد رکھتے ہیں اور عدالت سے درخواست کرتے ہیں کہ تمام 8 ملزمین کو پھانسی پر لٹکادیا جائے تاکہ کوئی بھی آئندہ کسی کی بھی بیٹی کی عصمت ریزی نہ کرے۔ والدہ نے کہا کہ مقامی رسنا کے مقامی عوام بھی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ہم سی بی آئی تحقیقات نہیں چاہتے۔ ہمیں خوف ہے کہ سانجی رام سی بی آئی کے عہدیداروں کو بھی رشوت دینے کی کوشش کرے گاجس طرح کہ اس نے ملازمین پولیس کو اس بے رحمانہ جرم کی پردہ پوشی کے لیے دی تھی۔

TOPPOPULARRECENT