Tuesday , December 18 2018

متحدہ آندھرا پردیش کی تقسیم کیلئے چندرا بابو کا عوام کو دھوکہ

تلنگانہ کیلئے صدر تلگودیشم کے مکتوب سے تحریک کو ترغیب: بوتسہ ستیہ نارائنا
حیدرآباد۔/24نومبر، ( سیاست نیوز) وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے سینئر قائد سابق وزیر بوتسہ ستیہ نارائنا نے کہا کہ صدر تلگودیشم چندرا بابو نائیڈو نے علحدہ تلنگانہ ریاست کی تائید کرتے ہوئے تحریک میں شدت پیدا کرنے کا موقع فراہم کیا۔ مرکز کو تلنگانہ کی تائید میں مکتوب پیش کیا اور 2009 کے عام انتخابات میں تلگودیشم کے انتخابی منشور میں علحدہ تلنگانہ کی تائید کو شامل کیا۔ آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بوتسہ ستیہ نارائنا نے چیف منسٹر آندھرا پردیش کی جانب سے صدر وائی ایس آر کانگریس پارٹی جگن موہن ریڈی پر صدر کانگریس سونیا گاندھی سے ساز باز کرتے ہوئے ریاست کو تقسیم کرانے کے الزام پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے ریاست کی تقسیم کے خلاف مرکز کو تحریری مکتوب پیش کیا جبکہ پہلے تلنگانہ کی کھل کر تائید کرنے والے چندرا بابو نائیڈو نے آندھرا پردیش میں مخالفت کو دیکھتے ہوئے دوہری پالیسی اپنائی۔ تلنگانہ کے تلگو دیشم قائدین سے تلنگانہ کی تائید میں آندھرا پردیش کے تلگو دیشم قائدین سے متحدہ آندھرا کی تائید میں دو علحدہ علحدہ مکتوبات مرکز کو پیش کرتے ہوئے دوہری پالیسی اپنائی اور عوام کو دھوکہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو نے اس وقت کے چیف منسٹر کرن کمار ریڈی اور کانگریس سے ساز باز کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کیا ہے۔ آندھرا پردیش کیلئے سنجیونی ثابت ہونے والے خصوصی ریاست کے درجہ سے چندرا بابو نائیڈو نے سمجھوتہ کرلیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT