Tuesday , January 23 2018
Home / شہر کی خبریں / متحدہ ریاست میں اردو زبان کا ناقابل تلافی نقصان

متحدہ ریاست میں اردو زبان کا ناقابل تلافی نقصان

آصف جاہی حکمرانوں کے کارنامے بے مثال ۔ ڈاکٹر گوپال کشن کا اظہار خیال

آصف جاہی حکمرانوں کے کارنامے بے مثال ۔ ڈاکٹر گوپال کشن کا اظہار خیال

حیدرآباد۔18مارچ(سیاست نیوز) لسانی بنیادپر ریاستوں کی تشکیل بالخصوص تلگو زبان کے نام پر آندھرا پردیش کی تشکیل کے متعلق جسٹس فضل علی کمیشن کی پہلی ایس آر سی رپورٹ سے اشارہ ملتا ہے کہاکہ فضل علی کمیشن تلگوزبان کی بنیاد پر تلنگانہ وآندھراکے انضمام کے مخالف تھا ۔ آندھرا پردیش میں پسماندگی کاشکار طبقات کے ساتھ ہوئی ناانصافیوں پر تبادلہ خیال کے دوران چیرمن تلنگانہ کوارڈنیشن کمیٹی ڈاکٹر گوپال کشن ان خیالات کا اظہار کررہے تھے۔ ڈاکٹر گوپال کشن نے کہاکہ فضل علی کمیشن نے انضمام کے متعلق کہاتھا کہ تلنگانہ کی معصوم اور مظلوم عوام کو آندھراکے شاطر افراد سے جوڑنے کی غلطی تلنگانہ میں غیر علاقائی زبان و افراد کی اجارہ داریوں میں اضافہ کاسبب بنے گا۔ انہوں نے کہاکہ انضمام کے بعد کچھ اس طرح کے حالات پیدا ہوئے جو تلنگانہ کی زبانوں بالخصوص تلنگانہ کی تلگواور اُردو کی تباہی کا سبب بنا۔انہوں نے متحدہ ریاست سے قبل کے حالات پر کہاکہ حیدرآباد کے انڈین یونین میں انضمام سے قبل نظام اسٹیٹ ہمہ لسانی تہذیب کی علمبردارریاست تھا جہاں تلگو و اردوکے ساتھ کرناٹک‘ او ر مہارشٹرا کی زبانوں کا چلن تھا۔

انہوں نے کہا کہ آصف جاہی حکمرانوں نے کسی زبان سے تعصب نہیں برتا ریاست حیدرآباد میں آصف جاہی حکمرانوں نے تلگو ‘ اُردو کے علاوہ دیگر زبانوں کو بھی نمایاں مقام فراہم کیا تھا۔ انہو ں نے آصف جاہی دور میںقائم عثمانیہ یونیورسٹی کو برصغیر کی عظیم درسگاہ قرار دیا اور کہاکہ انگریزی سے اُردو‘ تلگو‘ کنڑی‘ مرہٹی ‘ گجراتی و دیگر علاقائی زبانو ں کے ترجمہ کا بھی کام آصف جاہی دور میں انجام دیاگیا۔ انہوں نے آصف جاہی دور کے دواخانوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ عالیشان دواخانوں کی تعمیر سے رعایہ کو مفت طبی سہولتیں فراہم کرنے کاکام آصف جاہی حکمرانوں نے کیا مگر آندھرائی قائدین کے تلنگانہ میں داخلہ نے مفت طبی اور تعلیمی نظام کے مفہوم کو بدل کر رکھ دیا۔ انہو ںنے کہاکہ حکمرانوں کی ملی بھگت سے آندھرائی قائدین نے تلنگانہ میں کارپوریٹ دواخانے اور تعلیمی ادارے قائم کئے جو تلنگانہ کے تاریخی اہمیت کے حامل دواخانوں اور کالجس کی تباہی کی وجہہ بنا۔ ڈاکٹر گوپال کشن نے آندھرا پردیش کے قیام سے قبل حیدرآباد خاص طور پر تلنگانہ کے ہندومسلم بھائی چارے کو ساری دنیا کیلئے مثال قراردیتے ہوئے کہاکہ ایک دوسرے کے عید تہواروں میںمیں شامل ہونا اور غم وخوشی میںایک دوسرے کے ساتھ رہنا حیدرآباد کی تہذیب تھی جس کومتحدہ ریاست کے بعد نقصان پہنچانے کاکام کیاگیا۔

انہوں نے پولیس ایکشن کے وقت مسلم سماج کے خلاف نفرت پھیلانے اور مسلمانوں سے امتیاز برتنے کے واقعات کو قبول کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ واقعات کے بعد سے علاقہ تلنگانہ کے مسلمانوں کے اندر احساس کمتری پیدا ہونے لگی جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔انہوں نے مجوزہ تلنگانہ میں مسلمانوں میں احساس کمتری کودور کرنے اُردو کے سابقہ موقف کی بحالی کے علاوہ مسلمانوں کو زندگی کے تمام شعبوں میںآبادی کے تناسب سے تحفظا ت کو لازمی قراردیا۔ ڈاکٹر گوپال کشن نے تلنگانہ تحریک کے دوران مسلمانوں سے وعدوں پر عمل کا تلنگانہ کی جماعتوں سے مطالبہ کیا اور کہاکہ تلنگانہ میں ناانصافیاں و استحصال ناقابل برداشت ہیں ۔ انہوں نے مسلمانوں کے علاوہ پسماندگی کاشکار طبقات سے انصاف کیلئے تلنگانہ تحریک کے طرز پر ایک او رتحریک شروع کرنے کا اعلان کیا۔

TOPPOPULARRECENT