Wednesday , November 22 2017
Home / مضامین / متحدہ عرب امارات ایک نظر میں

متحدہ عرب امارات ایک نظر میں

شفیع اقبال
یکم فروری تا  4 مارچ 2014 ء متحدہ عرب امارات میں ہمیں قیام کرنے اور تمام ریاستوں کا دورہ کرنے کا سنہری موقع حاصل ہوا اور ہم بھی ان علاقوں ، عمارتوں ، خوبصورت پہاڑوں ، سمندروں ساحلوں ، کشادہ اور صاف ستھری سڑکوں اور نفیس و پرسکون ماحول سے بے حد متاثر ہوئے اور وہ ایام آج بھی ہمارے ذہن میں تر و تازہ تصویروں کی طرح محفوظ ہیں ۔ چلئے ہم ایرپورٹ ہی سے اپنے سفرنامے کا آغاز کرتے ہیں۔
دبئی ایرپورٹ پر تین ٹرمنل ہیں سب سے زیادہ مصروف ٹرمینل (ٹرمینل نمبر 3) ہی ہے ۔ دبئی ایرپورٹ پر ہر دو تین منٹ میں ایک فلائٹ یا تو ٹیک آف لیتی ہے یا لینڈنگ کرتی ہے ۔ ایرپورٹ سے ہم اپنے فرزند حامد کی کار سے رہائش گاہ شارجہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ کار سے ہم شہر کا نظارہ کرنے لگے ۔ کئی کئی ٹریکس  (Tracks) والی کشادہ اور صاف و شفاف سڑکیں ، جیسے ابھی ابھی وائپر کی گئی ہوں ۔ ہماری کار کبھی اوور برج پر چڑھ رہی ہے تو کبھی Round About پر گھوم رہی ہے ، تو کبھی Tunnel سے گزر رہی ہے ۔ کبھی one way کی متوازی سڑک پر دوڑ رہی ہے ۔ ہم تو یہ دیکھ کر حیران تھے کہ ایرپورٹ سے نکلنے کے بعد ہی سے سڑکوں کے دونوں کناروں پر پچیس پچیس تیس تیس منزلہ خوبصورت عمارتیں قطار میں کھڑی ہیں ۔ کسے دیکھیں کسے نہ دیکھیں ! ایسی اونچی اونچی عمارتوں پر ’’ہیلی پیڈ‘‘ کی تعمیر کو بھی حکومت نے لازمی قرار دیا ہے ۔
دنیا کی مشہور اور بلند ترین عمارتوں میں ’’برج خلیفہ‘‘ اور ’’برج العرب‘‘ کا شمار ہوتا ہے ۔ برج العرب پام جمیرہ ہی میں سمندر کے کنارے واقع ہے ، جو انتہائی خوبصورت عمارت ہے ۔ دنیا کے امیر ترین افراد کے علاوہ ہندوستان کے سوپر اسٹار شاہ رخ خان کا ولا (villa) بھی اسی علاقے میں ہے ۔ دبئی کی شیخ زائد روڈ پر دولت مند افراد کے خوبصورت villas اور شاندار بلند عمارتیں واقع ہیں ۔ یوں تو دبئی میں کئی بڑے بڑے شاپنگ مالس جن میں فیسٹول سٹی ، ابن بطوطہ مال ، اَمیریٹس مال ، سٹی سنٹر ، دبئی مال شامل ہیں ۔ لیکن دبئی مال اپنی مثال آپ ہے ۔ یہ اس قدر طویل و عریض ہے کہ دو تین بار دیکھنے پر بھی اس کا احاطہ کرنا مشکل ہے ۔ دبئی مال کے ایک کنارے ، برج خلیفہ کی 140 منزلہ عمارت سربلند کھڑی ہے ، جو سیاحوں کو حیرت زدہ کردیتی ہے ۔ اس عمارت کے دامن میں ’’میوزیکل فاؤنٹین‘‘ اور فائیو اسٹار ہوٹلس کی خوبصورت عمارتوں کا مشاہدہ کرنے کے لئے ملکی اور غیر ملکی سیاح جوق در جوق چلے آتے ہیں ۔ برج خلیفہ کی بلند ترین عمارت ساری دنیا میں اپنی شہرت رکھتی ہے ۔
ان دنوں دبئی میں Global village Festival کا انعقاد ہوتا ہے ، جس میں انڈیا ، پاکستان ، سعودی عرب ، مصر ، اٹلی وغیرہ کے الگ الگ شاپنگ سنٹرز قائم کئے جاتے ہیں ۔ روزانہ ہزاروں لوگ خرید و فروخت اور سیر و تفریح کے لئے آتے ہیں ۔ پارکنگ سے فیسٹول گیٹ تک کا تقریباً ایک کیلومیٹر کا فاصلے طے کرنے کیلئے انڈیا کے ’’ماڈی فائی‘‘ کئے ہوئے سائیکل رکشا کرایہ پر فراہم کئے جاتے ہیں ۔
ابوظہبی ، دبئی ، شارجہ ، راس الخیمہ ، عجمان ، یہ سب جڑواں شہر ہیں ۔ اندرون شہر آبنائے کی طرح سمندر کا ایک طویل حصہ شہر میں در آیا ہے جسے ’’CORNICH‘‘ کہتے ہیں ۔ اس آبنائے کے دونوں کناروں پر بھی اونچی عمارتیں ہیں اور تفریح گاہیں بنی ہوئی ہیں جہاں لوگ شام کے اوقات سمندری ماحول سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔
معدنی ذخائر اور پٹرول کی دولت سے مالا مال متحدہ عرب امارات کے شیوخ نے کروڑوں ، اربوں کے بے حساب سرمائے سے دبئی کو ’’جنت ارضی‘‘ بنا رکھا ہے اور مغربی تہذیب کی دلدادہ فیشن پرست ماڈرن خواتین و لڑکیاں نیم عریاں اور کم کم لباسوں کے ساتھ شاپنگ مالوں ، تفریح گاہوں ، بازاروں ، ایرپورٹ اور انٹرسٹی ٹرینوں میں ہر وقت نظر آتی ہیں ۔
دبئی سے تقریباً 150 کیلومیٹر کے فاصلے پر ابوظہبی آباد ہے ۔ اس شہر کے حکمراں شیخ زائد بن سلطان النہیان المختوم جنھوں نے ابوظہبی کو آباد کرنے اور خوبصورت شہر بنانے میں اپنی بھرپور صلاحیتوں کا استعمال کیا ہے ۔ ابوظہبی میں بھی خوبصورت اور اونچی اونچی عمارتیں موجود ہیں ۔ ابوظہبی کی سب سے زیادہ پرکشش عمارت ’’مسجد شیخ زاید‘‘ ہے  ۔ شیخ زاید بن سلطان النہیان نے اس مسجد کی تعمیر کروائی ۔ اس مسجد کا فن تعمیر ، خوبصورتی اور نقش و نگار ہر مشاہدہ کرنے والے کو متحیر کردیتے ہیں ۔ مسجد کی طویل و عریض عمارت کے اطراف ہرا بھرا ماحول ، تراشے ہوئے پودوں کی قطاریں ، شفاف پانی سے بھرے حوض اور فوارے موجود ہیں ۔
مسجد کا فن تعمیر ، رنگ و روغن اور سجاوٹ کی تعریف کیلئے موزوں الفاظ کی کمی محسوس ہورہی ہے ۔ سفید دودھیا رنگ میں چمکتی ہوئی مسجد کی چھوٹی بڑی گنبدیں ، اونچے اونچے پرکشش مینار دور ہی سے سیاحوں اور شائقین کی نگاہوں کو تجسس اور تحیر میں مبتلا کردیتے ہیں ۔ مغربی سمت بہت بڑے احاطہ پر مسجد کی عمارت جس پر ایک بڑی سفید خوبصورت اور تین چار چھوٹی گنبدیں ، چاروں کناروں پر چار اونچے مینار ، اس عمارت سے متصل مشرقی سمت بڑا صحن ۔ صحن کے تینوں طرف خوبصورت سائبان ، جس پر رنگارنگ نقش و نگار ، مشرقی کنارے پر داہنی جانب مردوں اور بائیں جانب خواتین کے لئے وضوخانے ۔ ان وضو خانوں کی دیواروں پر رنگین بیل بوٹوں سے نقش و نگاری کی گئی ہے جو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔
مسجد میں داخلے کیلئے بڑے بڑے نقش و نگار والے ستونوں کے درمیان آہٹ پہ کھلنے والے شیشے کے دروازے ۔ اندر نظر ڈالو تو خوبصورت ، قیمتی اور جاذب نظر قالین بچھی ہوئی، ستون اور دیواریں منقش ، چھت سے لٹکتے ہوئے رنگین اور بے انتہا خوبصورت بڑے بڑے جھومر ، مسجد کے بالائی حصے میں بھی قیمتی اور خوبصورت جھومر نظر آئیں گے ۔ صحن میں گرینٹ سے بھی زیادہ قیمتی پتھر سے تراشے ہوئے رنگین بیل بوٹے ۔ کہتے ہیں کہ اس کام کیلئے ایران کے خصوصی کاریگروں اور سنگ تراشوں سے خدمات حاصل کی گئیں ۔
اس مسجد کے شمالی بیرونی احاطہ میں شیخ زاید المختوم (بانی مسجد) کی مزار بھی ہے ۔ مزار کے احاطہ سے متصل ہال بھی ہے جس میں ہمہ وقت اسپیکروں کے ذریعہ تلاوت قرآن ہوتی رہتی ہے ۔ اس مسجد کی نگہداشت اور صفائی کیلئے سینکڑوں افراد متعین ہیں ۔ کئی سیکورٹی ملازم ہیں جو مسجد کا مشاہدہ کرنے والوں پر کڑی نظر رکھتے ہیں ۔
اس مسجد کے مشاہدے کے بعد یہ خیال آیا کہ اگر ہم ابوظہبی نہ آتے مسجد شیخ زاید کا مشاہدہ نہ کرتے اور نماز جمعہ ادا کرنے کا موقع نہ ملتا تو ہمارا دبئی کا سفر ادھورا ہی رہ جاتا ۔
دبئی سے تقریباً ڈیڑھ سو کیلو میٹر کے فاصلے پر اونچی اونچی پہاڑیوں کے درمیان اور سمندر سے قریب واقع شہر ’’فُجیرہ‘‘ میں نامعلوم صحابہ کرام کے ہاتھوں سینکڑوں برس پہلے تعمیر کی گئی مٹی پتھر اور چونے کی ’’البدیہ مسجد‘‘ اپنی اصلی حالت میں موجود ہے ، جسے فُجیرہ کے شیخ حمد بن محمد الشرفی نے 13 مارچ 2003 کو اپنی نگرانی میں مسجد کی تزئین و صفائی کے ساتھ مسجد کا افتتاح کرتے ہوئے پنجوقتہ نمازوں کیلئے پیش امام کو مامور کیا ، زائرین کی سہولت کیلئے نئے انتظامات کروائے ۔
البدیہ مسجد کی مشرقی سمت وسیع اور کشادہ سڑکیں ہیں اور ان سے متصل سمندری ساحل اور وسیع سمندر موجود ہے ۔ ہر روز سینکڑوں زائرین ، سیاح ، دبئی ، شارجہ ، ابوظہبی اور دیگر مقامات سے مسجد کی زیارت اور مشاہدے کیلئے آتے رہتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT