Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / متحدہ ہائی کورٹ کی تقسیم میں چیف منسٹر اے پی چندرا بابو اہم رکاوٹ

متحدہ ہائی کورٹ کی تقسیم میں چیف منسٹر اے پی چندرا بابو اہم رکاوٹ

مرکزی وزیر قانون سدانند گوڑ کے بیان سے رکاوٹ کی تصدیق ، وینوگوپال چاری کا ادعا
حیدرآباد۔/26مئی، ( سیاست نیوز) نئی دہلی میں تلنگانہ کے خصوصی نمائندہ وینو گوپال چاری نے الزام عائد کیا کہ متحدہ ہائی کورٹ کی تقسیم میں چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کی تقسیم میں رکاوٹ سے متعلق چندرا بابونائیڈو کے رول کا اندازہ مرکزی وزیر قانون سدانند گوڑا کے بیان سے ہوتا ہے۔ سدانند گوڑا نے کہا کہ آندھرا پردیش کیلئے نئے ہائی کورٹ کے قیام کیلئے چندرا بابو نائیڈو کو جگہ کی نشاندہی کرنی چاہیئے۔ وینو گوپال چاری نے کہا کہ تنظیم جدید قانون میں ہائی کورٹ کی تقسیم کا عمل شامل ہے اور اس اہم مسئلہ پر تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے۔ ہائی کورٹ کی تقسیم، مرکز سے حاصل ہونے والے فنڈز، عہدیداروں کی تقسیم، تعلیمی اداروں کا قیام اور شیڈول 9 اور 10جیسے اُمور پر مرکزی حکومت کا رویہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہائی کورٹ کی تقسیم اور دیگر مسائل کی یکسوئی کیلئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے 8 مرتبہ وزیر اعظم نریندر مودی سے نمائندگی کی۔ ہائی کورٹ کی تقسیم کیلئے پارلیمنٹ میں سدانند گوڑا کی جانب سے دیئے گئے تیقن کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ سدانند گوڑا اب واضح کرچکے ہیں کہ ہائی کورٹ کی تقسیم میں اہم رکاوٹ چندرا بابو نائیڈو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کے ججس کے تقرر کے سلسلہ میں چندرا بابونائیڈو تلنگانہ سے ناانصافی کی سازش کررہے ہیں۔ وینو گوپال چاری نے کہا کہ نوقائم شدہ ریاست تلنگانہ کی ترقی میں چندرا بابو نائیڈو رکاوٹ پیدا کرتے ہوئے عوام کیلئے مسائل کھڑے کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یوم تاسیس تلنگانہ کے موقع پر دہلی کے تلنگانہ بھون میں تقاریب منعقد کی جائیں گی۔ مرکزی وزراء مختلف ممالک کے سفراء اور اہم شخصیتوں کو مدعو کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT