Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / متمول ٹیکس دہندگان ایل پی جی سبسیڈی کیلئے نااہل

متمول ٹیکس دہندگان ایل پی جی سبسیڈی کیلئے نااہل

یکم جنوری سے فیصلہ پر عمل آوری،57.5 لاکھ صارفین رضاکارانہ طور پر سبسیڈی سے دستبردار
نئی دہلی۔ 28 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ٹیکس دہندگان جن کی سالانہ آمدنی 10 لاکھ روپئے سے زیادہ ہو ، وہ آئندہ ماہ سے رعایتی قیمت پر پکوان گیس سلینڈر (ایل پی جی) کے اہل نہیں ہوں گے۔حکومت نے آج ایسے ٹیکس دہندگان کو سبسیڈی نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس وقت ہر گھر کو 14.2 کیلو گرام کے 12 سلینڈرس سبسیڈی نرخ 419.26 روپئے میں سربراہ کئے جارہے ہیں جبکہ مارکٹ قیمت فی سلینڈر 608 روپئے ہے۔ وزارت تیل نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت نے متمول عوام سے خواہش کی تھی کہ وہ رضاکارانہ طور پر ایل پی جی سبسیڈی سے استفادہ ترک کریں اور اس کے بجائے مارکٹ قیمت پر سلینڈر خریدیں۔ اب تک 15 کروڑ صارفین کے منجملہ 57.5 لاکھ نے سبسیڈی سے دستبرداری اختیار کرلی ہے۔ کئی صارفین نے رضاکارانہ طور پر سبسیڈی سے دستبرداری اختیار کی، اس کے باوجود یہ محسوس کیا جارہا ہے کہ زیادہ آمدنی کے حامل صارفین کو ایل پی جی سلینڈر مارکٹ قیمت پر خریدنا چاہئے ۔ چنانچہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایل پی جی سبسیڈی کے فوائد ایسے صارفین کیلئے نہیں ہوں گے جن کی  قابل ٹیکس آمدنی دس لاکھ روپئے سے زیادہ ہو۔ ابتداء میں جنوری 2016 ء سے ازخود اعلان کے ذریعہ دستبرداری کا آغاز کیا جائے گا ۔ سبسیڈی بل میں کٹوتی اور مالیاتی خسارہ کم کرنے کیلئے پیشرو یو پی حکومت نے سبسیڈی پر گھریلو پکوان گیس سلینڈرس کی تعداد کو ہر سال 6 تک محدود کردیا تھا ۔ بعد ازاں اس پر نظرثانی کرتے ہوئے 9 کی گئی اور پھر یکم اپریل 2014 ء سے 12 سلینڈرس سبسیڈی پر سربراہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان 12 سلینڈرس پر سبسیڈی کی رقم صارفین کے بینک اکاؤنٹ میں راست جمع کرائی جارہی ہے۔ اس وقت ملک میں 16.35 کروڑ ایل پی جی صارفین ہیں۔ حکومت کی جانب سے سبسیڈی کی رقم راست بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کی اسکیم کے بعد یہ تعداد گھٹ کر 14.78 کرو ڑ ہوگئی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد یہی تھا کہ سبسیڈی کے فوائد حقیقی صارفین کو پہنچائے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT