Tuesday , June 19 2018
Home / Top Stories / متنازعہ ریمارکس ‘ پارٹی شکست کی اہم وجہ ‘ ہندو بھی ناراض ہوئے

متنازعہ ریمارکس ‘ پارٹی شکست کی اہم وجہ ‘ ہندو بھی ناراض ہوئے

نئی دہلی 19 فبروری( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی اسمبلی انتخابات میں ہزیمت کے بعد وجوہات کا پتہ چلانے بی جے پی کی کوششوں کے دوران ایک سینئر وزیر نے آج کہا کہ ہندوتوا کٹر پسندوں کی جانب سے کئے گئے متنازعہ ریمارکس کی وجہ سے پارٹی کے امکانات متاثر ہوئے ہیں۔ ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور ایم وینکیا نائیڈو نے

نئی دہلی 19 فبروری( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی اسمبلی انتخابات میں ہزیمت کے بعد وجوہات کا پتہ چلانے بی جے پی کی کوششوں کے دوران ایک سینئر وزیر نے آج کہا کہ ہندوتوا کٹر پسندوں کی جانب سے کئے گئے متنازعہ ریمارکس کی وجہ سے پارٹی کے امکانات متاثر ہوئے ہیں۔ ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور ایم وینکیا نائیڈو نے راست انتخابی مقابلہ میں بی جے پی کے حدود کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ پارٹی کو چاہئے کہ وہ اپنی حمایت میں اضافہ کرے اور ایسی حکمت عملی تیار کرے جس سے پارٹی وہ انتخابات بھی جیت سکے جہاں سہ رخی یا چار رخی مقابلہ نہ ہو۔ انہوں نے اس شکست کیلئے پارٹی کی وزارت اعلی امیدوار کرن بیدی کو ذمہ دار قرار دینے سے گریز کیا اور کہا کہ اس ہزیمت والی شکست کیلئے کئی دوسرے عوامل ہیں۔

یہ پارٹی کیلئے ایک جھٹکا ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے ایک تاریخ بناتے ہوئے دہلی میں 70 رکنی اسمبلی میں 67 نشستوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے سارے ملک کو حیرت زدہ کردیا تھا ۔ بی جے پی صرف تین نشستیں حاصل کرسکی تھی جبکہ کانگریس کو ایک بھی نشست نہیں مل سکی ۔ انہوں نے پارٹی رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج اور مرکزی وزیر ساتھوی نرنجن جیوتی کے متنازعہ ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے کچھ نام نہاد دوستوں کی جانب سے دئے گئے بیانات نے بھی ہمیں نقصان پہونچایا ۔ ان ریمارکس کی وجہ سے ساری اقلیتیں ایک طرف ہوگئیں۔ ہمیں یہ سبق سیکھنے کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ دہلی میں انتخابات میں تاخیر کرنا بی جے پی کی ایک غلطی رہی ہے جس کی اسے بھاری قیمت چکانی پڑی تاہم انہوں نے کہا کہ یہ اجتماعی طور پر کیا گیا فیصلہ تھا ۔ اس سوال پر کہ آیا گھر واپسی پر تنازعہ اور اس تنازعہ پر کئے گئے کچھ ریمارکس نے کچھ ہندووں کو بھی متفکر کردیا تھا مسٹر نائیڈو نے اثبات میں جواب دیا ۔ انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر ہندو پر امن بقائے باہم میں یقین رکھتے ہیں۔ وہ صدیوں سے ایسے رہے ہیں۔ ہمارے دوستوں نے کچھ ریمارکس کئے تھے جن سے لوگ خوش نہیں ہیں۔ عوام کو یہ باتیں پسند نہیں آئیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی کہہ رہا تھا کہ ہندو خواتین کو چار بچے پیدا کرنے چاہئیں۔ کچھ کہہ رہے تھے چھ بچے ہونے چاہئیں۔ کچھ کہہ رہے تھے کہ تمام عبادتگاہوں میں مورتیاں رکھی جانی چاہئیں ۔ یہ سب کچھ بہت غلط تھا ۔ نائیڈو نے یاد دہانی کروائی کہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور خود انہوں نے نرنجن جیوتی کے ریمارکس کو پسند نہیں کیا تھا ۔ اس سے ماحول خراب ہوا ہے ۔

اس سے بھی ہمیں نقصان ہوا ۔ وینکیا نائیڈو نے یہ ریمارکس ایسے وت میں کئے ہیں جبکہ منگل کو وزیر اعظم نریندر مودی نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور دیا تھا ۔ حالیہ چرچ حملوں پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے مودی نے کہا تھا کہ ان کی حکومت کسی بھی مذہبی گروپ کو نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دے گی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف سخت کارروائی کریگی ۔ نائیڈو نے اس خیال سے اتفاق نہیں کیا کہ وزیر اعظم نے چرچ حملوں اور دوسرے مذہبی تنازعات پر حرکت میں آنے میں تاخیر کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ کیا وزیر اعظم کے ایک بیان سے یہ سب کچھ رک جائیگا ۔ کیا یہ سب کچھ پہلی مرتبہ ہورہا ہے ۔ یہ ایک سوچ ہے جس کو روکنے کی ضرورت ہے ۔ یہ ادعا کرتے ہوئے کہ ہندووں پر تنقیدیں عام بات ہوگئی ہے نائیڈو نے کہا کہ اگر ریاستوں میں جبرا یا لالچ سے مذہب کی تبدیلی ہو رہی ہے کارروائی کرنا ریاستوں کا کام ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کشمیر میں تشکیل حکومت کیلئے پی ڈی پی ۔ بی جے پی بات چیت ثمر آور ہوگی ۔انہوں نے دہلی انتخابات میں امیدواروں کے انتخاب کو غلط قرار دینے سے گریز کیا ۔

کرن بیدی کے داخلہ سے بی جے پی کو شکست: کلراج مشرا
بریلی 19 فروری (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی لیڈر کلراج مشرا نے آج کہاکہ حالیہ دہلی انتخابات میں شکست کے پیش نظر پارٹی اترپردیش میں اپنے لائحہ عمل کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہے۔ مرکزی وزیر میڈیم اسمال اینڈ مائیکرو انٹرپرائزیز کلراج مشرا نے کہاکہ دہلی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو ’’غبارہ کی مانند‘‘ اُبھرنے والے قائدین کو پیش کرنے کی وجہ سے شکست ہوئی۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ بالکل سچ ہے کہ کرن بیدی کے داخلہ کی وجہ سے دہلی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو شکست ہوئی۔ اب ہمیں دیگر ریاستوں میں ایسی صورتحال سے نمٹنا ہوگا اور پارٹی اِس ضمن میں لائحہ عمل تیار کررہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ عام آدمی پارٹی نے بی جے پی کی کامیابی کی دوڑ پر روک ضرور لگادی ہے لیکن 2017 ء اترپردیش اسمبلی انتخابات کا پورے جوش و خروش سے سامنا کرنے کے لئے بی جے پی تیار ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ساری اپوزیشن بشمول کانگریس نے دہلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی کامیابی میں رول ادا کیا اور بی جے پی کی شکست کی یہ بھی ایک اہم وجہ رہی۔

TOPPOPULARRECENT