Wednesday , May 23 2018
Home / Top Stories / متوفی دلت گواہ کی موت پر بھیمہ کورے گاؤں تشدد کا عکس

متوفی دلت گواہ کی موت پر بھیمہ کورے گاؤں تشدد کا عکس

وہیں پولیس کا دعوی ہے کہ یہ ایک خودکشی کامعاملہ ہے جبکہ گھروالوں نے الزام عائد کیاکہ سابق پڑوسی جس کے ساتھ ’’ اراضی تنازع ‘‘ چل رہا ہے اس موت کا ذمہ دار ہے
مہارشٹرا۔ ریاست کے ضلع پونا میں جنوری کے دوران پیش ائے بھیما کورے گاؤں طبقہ واری تشدد میں گواہ انیس سال کی دلت لڑکی کی پراسرار موت کا واقعہ پیش آیاہے ۔ پوجا ساکٹ تشدد کے دوران جس کا گھر بھی نذر آتش کردیاگیاتھا‘ تین دن قبل گاؤں کی باؤلی سے اس کی نعش دستیاب ہوئی ہے۔

وہیں پولیس کا دعوی ہے کہ یہ ایک خودکشی کامعاملہ ہے جبکہ گھروالوں نے الزام عائد کیاکہ سابق پڑوسی جس کے ساتھ ’’ اراضی تنازع ‘‘ چل رہا ہے اس موت کا ذمہ دار ہے۔پوجا کے والد نانا صاحب ساکٹ نے کہاکہ ’ ’انہیں ڈر تھا کہ میری بیٹی عدالت میں ان کے خلاف بولے گی۔

مجھے شبہ ہے کہ میری بیٹی کواغوا کرکے قتل کردیاگیا۔ تاہم پولیس نے خودکشی کا ایک مقدمہ درج کیاہے‘‘۔پولیس نے دو لوگوں کوگرفتار کیاہے جس میں60سال کاوکاس ویدپاٹھک او راس کا بیٹا گنیش شامل ہے اور پوری گاؤں سے مزید سات لوگوں پر مقدمہ درج کیاہے ‘ ان پر خودکشی کے لئے اکسانے کا الزام ہے۔ان لوگوں کے خلاف ایس سی ‘ ایس ٹی ایکٹ کے تحت بھی مقدمہ درج کیاگیا ہے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ پانی میں ڈوبنے کی وجہہ سے پوجا کی موت ہوئی ہے۔مذکورہ خاندان کا گھر جو پونا احمد نگر ہائی وے پر واقعہ تھا 2جنوری کے روز ہجوم نے مذکورہ گھر کو نذر آتش کردیاتھا‘ ایک روزقبل ہی اسعلاقے میں بھیما کورے گاؤں جنگ کی دوسو ویں یاد منانے کی غر ض سے لاکھوں لوگ وہاں پر جمع ہوئے تھے۔

پوجا اور اس کا بھائی گھر نذ ر آتش کرنے کے واقعہ کی چشم دید گواہ تھے‘ دونوں اسی روز پولیس سے رجو ع ہوکر شکایت بھی درج کرائی تھی ۔ پولیس نے بھائی کا بیان قلمبند کیاتھا ‘ جس میں اس نے ایک سو پچاس لوگوں کے ہجوم میں سے پانچ لوگوں کی شناخت بھی کی تھی۔

بعدازاں یکم جنوری کے روز پیش ائے تشدد کے واقعات میں زخمی پولیس والے پرقاتلانہ حملے کے الزام میں جئے دیپ کوگرفتار کرلیاگیاتھا۔ اس کیس کے تیس ملزمین میں سے ایک ملند ایکبوٹے بھی شامل ہے۔ جئے دیپ کادعوی ہے کہ ’’ مجھے جھوٹے الزام میں گرفتار کیاگیاتھاکیونکہ میں نے ہمارے گھر جلانے والوں کے خلاف شکایت درج کرائی تھی‘‘۔

ساکٹ کے گھر والے جو اب کرایہ کے مکان میں رہ رہے ہیں نے کہاکہ ان کی بیٹی گھر جلائے جانے کے بعد سے’’ بہت زیادہ الجھن کاشکار‘ ‘ او ر’’ تناؤ‘‘ میں زندگی گذار رہی تھی۔انہوں نے کہاکہ ’’ اپنے بھائی کے ساتھ جب وہ پولیس اسٹیشن شکایت کے لئے گئی تو اس کا بیان ریکارڈ کرنے سے پولیس نے انکا ر کردیاتھا۔ہم سونچ رہے تھے کہ پوجا کو بیان قلمبند کرانے کے لئے عدالت کولے کر جائیں۔ مگر اس سے قبل ان لوگوں نے میری بیٹی کو قتل کردیا‘‘۔

پوجا کے والد کا الزام ہے کہ انکاپڑوسی ویداپاٹھک انہیں وہاں سے گھر خالی کرانے کی کوشش کررہاے اور اس نے پچھلے سال نومبر میں ان لوگوں کے خلاف پولیس میں شکایت بھی درج کرائی تھی۔

ان کا الزام ہے کہ یکم جنوری کے روزتشدد کے دوران ہمارے مکان کو نذر آتش کرنے کے واقعہ کا وہ فائدہ اٹھارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ’’ اگربھیما کورے گاؤں تشد د سے اس کا کچھ لینا دیناتھا تو میرے گھر یکم جنوری کے روز نذر آتش کیاجانا چاہئے تھا ۔

یہ واقعہ 2جنوری کے روز پیش آیا جب امتناعی احکامات نافذ تھے ۔ ایک بڑا ہجوم میرے گھر پر آیا اور گھر کو جلاکر خاکستر کردیا‘‘۔ ساکت نے کہاکہ میری بیٹی جس نے حال میں گیارہویں جماعت کے امتحان لکھا ہے ‘ بھیما کورے گاؤں تشدد کے کسی بھی واقعہ کی گواہ نہیں ہے۔

پوجا اپریل21کے روز اس وقت گھر سے لاپتہ ہوگئی جب گھر میں اس کی ما ں او ربہن دونوں ہی تھے۔ گھر والوں نے شام کے وقت شکار پور پولیس اسٹیشن میں ایک شکایت بھی درج کرائی۔

اگلے رو ز گھر سے دو سے تین سومیٹرس کے فیصلے پر موجود باؤلی سے اس کی نعش ملی۔ساکٹ نے کہاکہ ملزم ویلاس ویداپاٹھک کاکہنا ہے نذر آتش کیاگیا گھر جس زمین پر تعمیرکیاگیا تھا وہ اس کی اراضی ہے۔ انہو ں نے کہاکہ ’’ مگر پچھلے پندرہ سال سے میں وہاں پر رہ رہا ہوں‘ میر ا راشن کارڈ ‘ آدھار کارڈ ‘ پان کارڈ ہر چیز اسی پتہ پر موجود ہے‘‘۔

ملزم کی بیوی شوبھا ویدا پاٹھک کا دعوی ہے کہ ان کے گھر والو ں کو ہراساں کیاجارہا ہے۔ اس کا کہناہے کہ ’’ ہماری ذاتی زمین پر سریش ساکٹ چائے کی دوکان چلاتا ہے۔غیرقانونی طریقے سے اس نے وہاں پر رہنا شروع کردیاتھا۔ ہم نے سیول کورڈ میں اس کے خلاف کیس بھی کیاہے۔

اس کو یا اس کے گھر والوں کو تکلیف پہنچانے کا ہمارا کوئی منشا ء نہیں تھا۔میرے شوہر او ربیٹی پر درج مقدمہ جھوٹا ہے۔میرے شوہر ایک معمر شہری اور معذور ہیں‘‘۔ایک سینئر پولیس افیسر نے کہاکہ ’’ اہم معاملہ اراضی تنازع کا پس منظر ہے۔ مگر ہم کیس کے دیگر پہلوؤں کی بھی تحقیقات کررہے ہیں‘‘

TOPPOPULARRECENT