Sunday , June 24 2018
Home / ہندوستان / متوفی شریف الدین کی بیوہ کا ناگا قبیلے سے تعلق فوجیوں کے خاندان کو پناہ گزین قرار د ینے پر جمال الدین کا اعتراض

متوفی شریف الدین کی بیوہ کا ناگا قبیلے سے تعلق فوجیوں کے خاندان کو پناہ گزین قرار د ینے پر جمال الدین کا اعتراض

کولکتہ ۔ 11 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اگرچیکہ میرے بھائی کی بیوی کا تعلق ناگا قبیلے سے ہے لیکن وہ اپنی دختر کے ساتھ چند روز قبل ہمارے یہاں آئی تھی، اس وقت ہم نے ان کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنایا تھا ۔ گوکہ ناگا لڑکوں نے ہمارے بھائی کا بہیمانہ قتل کردیا ۔ متوفی شریف الدین کے بڑے بھائی سید جمال الدین نے یہ انکشاف کیا۔ شریف الدین کو گزشتہ

کولکتہ ۔ 11 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اگرچیکہ میرے بھائی کی بیوی کا تعلق ناگا قبیلے سے ہے لیکن وہ اپنی دختر کے ساتھ چند روز قبل ہمارے یہاں آئی تھی، اس وقت ہم نے ان کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنایا تھا ۔ گوکہ ناگا لڑکوں نے ہمارے بھائی کا بہیمانہ قتل کردیا ۔ متوفی شریف الدین کے بڑے بھائی سید جمال الدین نے یہ انکشاف کیا۔ شریف الدین کو گزشتہ جمعرات کو ناگالینڈ کے ٹاؤن دیما پور میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہولی خاں (بیوہ شریف الدین) اب ہمارے خاندان کا حصہ بن گئی ہیں اور وہ پیدائش ناگا قبیلہ سے ہے اور انہیں 3 سالہ لڑکی اسنہا بھی ہے جو ہ ہمارا ہی خون سے سید جمال الدین نے یہ وضاحت کی کہ ان کی مقتول بھائی کا نام فریدالدین نہیں تھا جیسا کہ میڈیا میں آرہا ہے بلکہ شریف الدین تھا، وہ سیکنڈ ہینڈ کاروں (مستعملہ کاروں) کے ڈیلر تھے اور زندگی میں کبھی غلط کام نہیں کیا ۔ 7 بھائیوں میں سے 3 بھائی کا انحصار ان پر تھا اور وہ 7 سال قبل شادی سے بہت ہی خوش تھے۔

خان برادرس جنوبی آسام میں ضلع کریم گنج کے موضع بوسلہ میں مقیم ہیں اور اس واقعہ پر الجھن کا شکار ہیں جس کے باعث ان کے بھائی کی موت واقع ہوگئی۔ دیماپور جیل میں محروس شریف الدین کو ایک ہجوم نے گھسیٹتے ہوئے باہر لایا اور ایک کلاک ٹاؤر پر لٹکادیا۔ تاہم ناگا قبیلے کے کئی لوگوں نے اس ہلاکت سے لا تعلق کا اظہار کیا ہے۔ اسے غیر ارادی قتل قرار دیا ہے کیونکہ ناگا قبائل نے اس کی منظوری نہیں دی تھی۔ تاہم سید جمال الدین نے اس حجت میں پڑنے سے انکار کردیا اور بتایا کہ میرے بھائی کو غیر قانونی پناہ گزین اور بنگلہ دیشی قرار دیا گیا تھا

اور ان کے قتل کے پس پردہ یہ محرکات کارفرما تھے جس کے باعث انہیں منصوبہ بند طریقہ سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس سے بڑا جھوٹ اور کیا ہوسکتا ہے کہ غیر قانونی شہری قرار دیا گیا تھا ۔ جمال الدین نے مزید بتایا کہ میرے والد سید حسین خان ملٹری انجینئرنگ سروسے میں تھے اور 7 بھائیوں میں سے 2 بھائی سپاہی ہیں اور میں خود آسام رجمنٹ سے وابستہ ہوں۔ اس کے باوجود ہمیں غیر قانونی پناہ گزین قرار دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی کے خلاف عائد الزامات کی مناسب طریقہ پر تحقیقات کروائی جائے اور قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

TOPPOPULARRECENT