Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / متھرا میں پولیس اور اراضی قابضین کے مابین جھڑپ ۔ 24 افراد ہلاک

متھرا میں پولیس اور اراضی قابضین کے مابین جھڑپ ۔ 24 افراد ہلاک

مہلوکین میں ایک ایس پی اور ایک ایس ایچ او بھی شامل ۔ مرکز نے ریاست سے رپورٹ طلب کی ۔ راج ناتھ سنگھ کی چیف منسٹر سے بات چیت
متھرا ، 3 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) متھرا میں کل سرکاری زمین کے قابضین اور پولیس کے مابین پیش آئی جھڑپ انتہائی سنگین ہوگئی ہے اور اس میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہوگئے ہیں ۔ مہلوکین میں ایک سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور ایک ایس ایچ او بھی شامل ہیں۔ یہ جھڑپ اس وقت پیش آئی جب پولیس نے سرکاری اراضی سے غیر مجاز قابضین کے ایک گروپ کو برخاست کرنے کی کوشش کی ۔ علاقہ میں آج بھی اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب پولیس نے اس مقام سے بھاری مقدار میں اسلحہ کا ذخیرہ ضبط کیا اور زائد از 365 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ اتر پردیش کے چیف منسٹر اکھیلیش سنگھ یادو نے جواہر باغ علاقہ میںپیش آئے تشدد کے واقعہ کی متھرا کے ڈویژنل کمشنر کے ذریعہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ یہاں تقریبا 3000 افراد نے گزشتہ دو سال سے 260 ایکر اراضی پر ایک غیرقانونی کیمپ قائم کرلیا تھا ۔ مرکزی حکومت نے اس واقعہ پر اتر پردیش حکومت سے رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے چیف منسٹر اکھیلیش سنگھ یادو سے بات کی اور ریاستی حکومت کو مرکز کی ہر ممکن مدد کا تیقن دیا ۔

ریاست کے ڈائرکٹر جنرل پولیس جاوید احمد کے مطابق سرکاری اراضی پر قابض افراد کے گروپ نے بلا اشتعال فائرنگ کی ۔ ان قابضین نے پہلے سنگباری کی اور پولیس اہلکاروں پر لاٹھیوں سے حملہ کیا، جب پولیس یہاںقابضین کے تخلیہ کیلئے حالات کا جائزہ لینے کیلئے پہونچی۔ جاوید احمد نے کہا کہ اس بلااشتعال فائرنگ میںسپرنٹنڈنٹ پولیس سٹی مکل دویویدی اور اسٹیشن ہاوز آفیسر ایف سنتوش یادو کی موت واقع ہوگئی ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ٹیموں نے خود کو منظم کیا۔ وہاں موجود گیس سلنڈرس اور اسلحہ کو نذر آتش کیا جس کے نتیجہ میں وہاں کئی دھماکے ہوئے ۔ ڈی جی پی نے بتایا کہ تشدد میں 22 فسادی ہلاک ہوئے ہیں ان میں وہ 11 افراد بھی شامل ہیں جو فسادیوں کی جانب سے شروع کی گئی فائرنگ میں ہلاک ہوئے ہیں۔ ڈی جی پی نے مہلوک پولیس عہدیداروں کو خراج پیش کرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دو نوجوان عہدیداروں نے قانون کا تحفظ کرتے ہوئے اپنی جان قربان کردی اور ہم بہت تکلیف کے ساتھ انہیں وداع کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ تقریبا 23 پولیس اہلکاروں کو دواخانوں سے رجوع کیا گیا ہے اور ان میں کئی اہلکار گولیاں لگنے کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ غیر قانونی قابضین کے کیمپ سے 47 بندوق ‘ چھ رائفلیں اور 178 دستی بم ضبط کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نظم و قانون کو متاثر کرنے کے الزام میں 124 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ 116 خواتین کے بشمول دیگر 196 افراد کو تعزیرات ہند کی دفعہ 151 کے تحت گرفتار کیا گیا ہے جو عملاً احتیاطی گرفتاری ہے۔ یہ قابضین آزاد بھارت ودھک ویچارک کرانتی ستیہ گرہی کے بیانر تلے کیمپ قائم کئے ہوئے تھے اور ان کا تخلیہ الہ آباد ہائیکورٹ کے احکام پر کروایا جا رہا تھا ۔ سمجھا جاتا ہے کہ یہ افراد بابا جئے گرو دیو فرقہ کے علحدہ گروپ کے ارکان ہیں اور انہوں نے دھرنا کے نام پر اس اراضی پر قبضہ کیا ہوا تھا ۔ ان کے مطالبات میں یہ شامل ہے کہ صدر جمہوریہ ‘ وزیراعظم ہند کے انتخاب کو منسوخ کیا جائے ۔ موجودہ کرنسی کو آزاد ہند فوج کی کرنسی سے بدلا جائے ۔ ڈیزل ایک روپئے میں 60 لیٹر اور پٹرول ایک روپئے میں 40 لیٹر فروخت کیا جائے ۔ لکھنو میں چیف منسٹر اکھیلیش سنگھ یادو نے ڈویژنل کمشنر متھرا کے ذریعہ اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیدیا ہے ۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ انہوں نے متھرا میں صورتحال کا جائزہ لیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ چیف منسٹر اتر پردیش سے بات کرتے ہوئے  صورتحال کا جائزہ لے چکے ہیں۔ انہوں نے چیف منسٹر کو ہر ممکنہ مدد کا تیقن دیا ہے ۔ انہوں نے متھرا میں انسانی جانوں کے اتلاف پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے مرکزی وزارت داخلہ نے ریاستی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس واقعہ کی حقائق پر مبنی تفصیلی رپورٹ جتنا ممکن ہوسکے جلد پیش کرے ۔ پولیس نے کہا کہ مدھیہ پردیش نمبر پلیٹ کی کچھ گاڑیاں بھی دستیاب ہوئی ہیں اور یہ جائزہ لیا جائے گا  کہ آیا اس سے نکسلائیٹس کا کوئی تعلق تو نہیں ہے ۔ ڈی جی پی نے بتایا کہ 15 کاریں اور 6 موٹر سائیکلیں ضبط کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی عوام قابضین پر برہم تھے اور انہوں نے پولیس کی مدد کی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT