مثالی معلمہ ڈاکٹر ونئے شیلا جن کا ہر پل فروغ تعلیم کے لیے وقف

حیدرآباد ۔ 18 ۔ دسمبر : ( نمائندہ خصوصی ) : کہتے ہیں کہ علم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ، کوئی نسل ، کوئی علاقہ نہیں ہوتا نہ کوئی ذات ہوتی ہے نہ کوئی رنگ ، علم بہر حال علم ہوتا ہے ۔ مگر ہم میں سے ایسے بہت کم افراد ہوئے جو علم کو علم کے لیے استعمال کرتے ہیں اور علم سے صحیح استفادہ کرتے ہیں ۔ انہی میں سے ایک ڈاکٹر ونئے شیلا جو تعلیم اور علم سے دیوان

حیدرآباد ۔ 18 ۔ دسمبر : ( نمائندہ خصوصی ) : کہتے ہیں کہ علم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ، کوئی نسل ، کوئی علاقہ نہیں ہوتا نہ کوئی ذات ہوتی ہے نہ کوئی رنگ ، علم بہر حال علم ہوتا ہے ۔ مگر ہم میں سے ایسے بہت کم افراد ہوئے جو علم کو علم کے لیے استعمال کرتے ہیں اور علم سے صحیح استفادہ کرتے ہیں ۔ انہی میں سے ایک ڈاکٹر ونئے شیلا جو تعلیم اور علم سے دیوانہ وار لگاؤ رکھنے اور اپنے اردگرد علم کی روشنی پھیلانے اپنی زندگی وقف کردی ہیں ۔ ڈاکٹر ونئے شیلا جنہوں نے 37 سال تک صفدریہ گرلز ہائی اسکول میں بحیثیت ہیڈ مسٹریس خدمات انجام دی ہیں اور پھر سبکدوشی کے بعد آج بھی وہ اسی اسکول میں اعزازی خدمات بدستور جاری رکھی ہوئی ہیں ۔ ان کے شوہر موہن کمار نے بھی اسی اسکول میں 40 سال تک خدمات انجام دیں اور ان دونوں میاں بیوی نے اس اسکول میں رہ کر اطراف و اکناف کی لڑکیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کرنے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے ۔

یہاں کی طالبات کو ان سے لگاؤ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ طالبات انہیں ٹیچر کے بجائے ’ اماں ‘ کہہ کر مخاطب کرتی ہیں ۔ ڈاکٹر ونئے شیلا جو ایم اے انگلش ، ایم ایس سی نفسیات ، ایم اے ایجوکیشن ، ایم ایڈ ، ایم فل اور پی ایچ ڈی (عثمانیہ ) جیسی ڈگریوں کی حامل ہیں ، نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے تحقیقی مضامین تحریر کیے ہیں جس کی وجہ سے بھی ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ تعلیمی معیار ، طالبات سے لگاؤ اور اسکول کے معیار کو بلند کرنے کے ان جذبہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اپنی پوری سرویس میں انہوں نے صرف 10 روز چھٹی لی ہے اور وہ بھی طبیعت خراب ہوجانے کی وجہ سے ۔ تعلیم کے تئیں ان کے اس لگاؤ اور جذبہ کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس وقت ( 12 جون 1978 ) انہوں نے اس اسکول میں اپنی خدمات کا آغاز کیا تھا ۔ اس وقت یہاں صرف 150 طالبات زیر تعلیم تھیں جب کہ آج یہاں 860 طالبات علم کے زیور سے آراستہ ہورہی ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ غیر مسلم ہونے کے باوجود انہیں نہ صرف اردو سے لگاؤ اور واقفیت ہے بلکہ وہ اپنی طالبات ، ان کے مذہبی معاملات میں بھی رہنمائی کرتی نظر آتی ہیں ۔ گذشتہ روز جب راقم الحروف نے ان سے ملاقات کی ۔

اس وقت وہ اپنی طالبات کو عید میلاد النبیؐ کے حوالے سے تربیت دے رہی تھیں اور انہیں نعت خوانی سکھا رہی تھیں کہ فلاں نعت شریف ایسے پڑھنا چاہئے ۔ اور فلاں نعت شریف کا لحن ایسا ہونا چاہئے ۔ وہ ہر سال اپنے اسکول میں عید میلاد النبیؐ کے پروگرام کا اہتمام کرتی ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس اسکول کے بانی بیگم صغریٰ ہمایوں مرزا ان کے شوہر سید ہمایوں مرزا تھے وہ بیرسٹر تھے اور ان کا تعلق پٹنہ سے تھا ۔ مذکورہ دونوں میاں بیوی کا مقبرہ اسی اسکول کے احاطے میں ہے جسے بہت ہی خوبصورت انداز میں تعمیر کیا گیا ہے ۔ بہر حال ڈاکٹر ونئے شیلا اور ان کے شوہر کے اس ادارے سے لگاؤ کے باعث یہ اسکول ، آندھرا پردیش کا واحد اسکول بن گیا ہے جہاں کی مسلم لڑکیاں این سی سی سے مربوط ہوتے ہوئے تربیت حاصل کرہی ہیں اور اس کا سہرا بھی انہی کے سرجاتا ہے ۔ اسکول انتظامیہ بھی انہیں نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں محکمہ تعلیم آندھرا پردیش نے ڈاکٹر ونئے شیلا کو 2001 میں مثالی معلمہ کے اعزاز سے نوازا ہے ۔ جب کہ اردو اکیڈیمی نے بھی انہیں 2008 میں مثالی معلمہ کا اعزاز عطا کیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT