Thursday , December 14 2017
Home / مذہبی صفحہ / مجاہدہ

مجاہدہ

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’جو لوگ ہمارے راستے میں مجاہدہ اور تکلیفیں اُٹھاتے ہیں، ہم ان کے لئے اپنی راہیں کھول دیتے ہیں‘‘۔ حضرت سلطان بلخی رحمۃ اللہ علیہ نے بلخ کی سلطنت اللہ کی راہ میں چھوڑکر فقیری اختیار کی تھی۔ اسی طرح بہت سے اللہ والوں نے تخت شاہی کو ٹھکراکر اللہ تعالیٰ کی راہ میں بلند مقام حاصل کیا۔
حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ نے جب سلطنت بلخ کو چھوڑکر عبادت و مجاہدہ کے لئے جنگل کی راہ لی تو جنگل میں جنت سے کھانا آنے لگا، جس سے سارا جنگل خوشبو سے مہک جاتا تھا۔ اسی جنگل میں ایک گھاس چھیلنے والے نے اپنا پیشہ ترک کرکے فقیری اختیار کر رکھی تھی۔ اس کو بارہ سال سے دو روٹی اور چٹنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا کرتی تھی۔ اس فقیر کو بڑا رنج ہوا اور شیطان نے اس کو بہکایا کہ ’’دیکھ! تیری کتنی قدر ہے ہے اور اس نئے فقیر کی کیا قدر ہے؟۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا‘‘۔ ابھی وہ شخص دل میں یہ نامناسب باتیں سوچ ہی رہا تھا کہ غیب سے آواز آئی: ’’او بے ادب! او ناشکرے! جا اپنی کھرپی اُٹھا، جس سے تو گھاس چھیلا کرتا تھا اور اپنی جھولی سنبھال جس میں گھاس رکھتا تھا، اسی طرح کما کھا جس طرح کماتا کھاتا تھا۔ تونے میری راہ میں اپنی کھرپی اور جھولی قربانی کی تھی اور اس شخص نے سلطنت بلخ کا تخت و تاج، محل اور سلطانی کو میری راہ میں قربان کیا ہے‘‘۔ یقیناً اللہ کے نیک بندوں نے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کیا اور پھر وہ اللہ کے مقرب بندے بنے۔
اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کی زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ راہِ حق میں مجاہدہ کی سخت ضرورت ہے۔ آج بھی اگر کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے تمام برائیوں سے پرہیز کرنا چاہئے، یعنی جھوٹ، غیبت اور دیگر برائیوں کو ترک کردینا چاہئے اور اللہ تعالیٰ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر سختی سے عمل کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے صحبت یافتہ ہیں، وہ کافروں کے مقابلہ میں سخت ہیں اور آپس میں مہربان۔ تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع و سجدہ کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے رہتے ہیں…‘‘۔ (مرسلہ)

TOPPOPULARRECENT