Thursday , July 19 2018
Home / اداریہ / مجرمین کو انتخاب سے دور رکھنے کی تجویز

مجرمین کو انتخاب سے دور رکھنے کی تجویز

آپ فریادِ محبت نہ سمجھ لیں اس کو
التجا ضبط کی منزل سے ابھی نکلی ہے
مجرمین کو انتخاب سے دور رکھنے کی تجویز
الیکشن کمیشن نے تجویز کیا ہے کہ ملک میں سنگین جرائم کا سامنا کرنے والے افراد کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جانا چاہئے ۔ کمیشن نے سپریم کورٹ میں حلفنامہ داخل کیا ہے اور کہا ہے کہ جن افراد کے خلاف ایسے مقدمات درج ہیں جن میں پانچ سال قید کی سزا ہوسکتی ہے تو انہیں انتخابات میں مقابلہ کرنے سے روکا جانا چاہئے ۔ ایسے مقدمات سنگین نوعیت کے ہوتے ہیں۔ اس سلسلہ میںمرکزی حکومت کو قوانین بنانے چاہئیں اور موجودہ قوانین میں ترامیم کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔ الیکشن کمیشن کی یہ تجویز ایسی ہے جس سے ملک کے عام لوگ تو اتفاق کرینگے لیکن ملک کی سیاسی جماعتیں شائد اس سے اتفاق نہیں کرینگی ۔ الیکشن کمیشن نے 1998 میں انتخابی اصلاحات کی تجاویز پیش کرنی شروع کی تھیں۔ ابھی تک کوئی بھی حکومت ایسی نہیں آئی جس نے ان تجاویز کو عملی شکل دینے کی کوشش کی ہو۔ جس وقت ملک میں ٹی این سیشن چیف الیکشن کمشنر بنے تھے اس وقت سے انہوں نے انتخابی نظام میں اصلاحات لانے کی نمایاں کوششیں کی تھیں۔ انہوں نے امیدواروں کے انتخابی اخراجات پر پابندی عائد کی تھی ۔ مبصرین کے تقرر کیلئے اقدامات کئے تھے اور مجرمانہ پس منظر رکھنے والے افراد کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کی تجاویز بھی پیش کی تھیں۔ انہوں نے سیاست کو جرائم پیشہ افراد سے پاک رکھنے کیلئے کئی اور تجاویز بھی پیش کی تھیں۔ اس کے بعد سے بھی مختلف الیکشن کمشنران کی جانب سے سیاست کو جرائم سے پاک کرنے کیلئے کئی تجاویز حکومتوں کو روانہ کی گئیں لیکن کسی بھی حکومت نے ان تجاویز کو منظوری نہیں دی ۔ 1998 کے بعد 2004 میں حکومت کو کچھ تجاویز پیش کی گئی تھیں جنہیں برفدان کی نذر کردیا گیا ۔ ا س کے علاوہ 2016 میں ایک بار پھر حکومت کو اس طرح کی تجاویز روانہ کی گئیں لیکن ان پر بھی موجودہ حکومت نے بھی کوئی کارروائی نہیں کی اور یہ مسئلہ ہنوز تعطل کا شکار ہے ۔ اس سے مجرمین کو سیاسی عمل سے دور رکھنے میں حکومت کی عدم سنجیدگی کا پتہ چلتا ہے ۔ حکومتیں خود ایسے افراد کی مدد حاصل کرتی ہیں جو انتخابات میں بزور طاقت کامیابی حاصل کرلیتے ہیں یا کسی امیدوار کو کامیابی دلانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ یہ در اصل ملک کی جمہوریت کا مذاق ہے ۔
ہندوستان کی شائد ہی کوئی سیاسی جماعت ایسی ہوگی جس کو مجرمانہ پس منظر رکھنے والے افراد کی تائید حاصل نہ ہوگی ۔ کئی جماعتیں ایسی ہیں جن کے امیدواروں کے نام کے آگے تعلیمی ڈگریوں سے زیادہ فوجداری مقدمات کا اندراج ہوتا ہے ۔ ان میں سنگین اور انتہائی سنگین نوعیت کے مقدمات بھی درج ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود سیاسی جماعتیں انہیں انتخابی میدان سے دور نہیں کرتیں بلکہ انہیں ترجیحی بنیادوں پر پارٹی ٹکٹ فراہم کئے جاتے ہیں۔ یہ سیاسی جماعتوں کے دوہرے معیارات ہیں۔ جب یہ جماعتیں کامیابی حاصل کرلیتی ہیں اور حکومتیں بنالیتی ہیں تو عوامی سطح پر اخلاقیات اور اصول و قوانین کا درس دیا جاتا ہے لیکن جب انہیں جماعتوں کو ووٹ حاصل کرنے ہوتے ہیں تو انہیں شفاف کردار کے حامل افراد پسند نہیں آتے ۔ انہیں مجرمانہ پس منظر رکھنے والے افراد کی تائید درکار ہوتی ہے اور انہیں کے بل بوتے پر انتخابات میں کامیابی حاصل کی جاتی ہے ۔ یہ ملک کی جمہوریت کے ساتھ ایک مذاق ہے ۔ اس سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی بنیادیں کھوکھلی ہو رہی ہیں۔ کوئی بھی سیاسی جماعت ان بنیادوں کو مستحکم کرنے کیلئے سنجیدگی سے کام کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ جب کسی جماعت سے اس کی صفوں میں موجود مجرمانہ پس منظر رکھنے والوں کے تعلق سے سوال کیا جاتا ہے تو نت نئے بہانے بناتے ہوئے ایسے افراد کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے اور دوسری جماعتوں میں موجود افراد کی نشاندہی کی جاتی ہے ۔ یہ عذر گناہ بد تر از گناہ والی بات ہے ۔ اس سے سب کو گریز کرنا چاہئے ۔
اب جبکہ الیکشن کمیشن نے ایک بار پھر ایسی تجاویز پیش کی ہیں اور سپریم کورٹ میں حلفنامہ داخل کردیا ہے تو حکومت کو اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس سے پہلے کہ ایسے افراد سے جمہوریت کی دھجیاں اڑ جائیں اور اس کی بنیادیں مزید کھوکھلی ہوجائیں سیاسی جماعتوں کو اس مسئلہ پر آگے آنے کی ضرورت ہے ۔ جب تک حکومتیں سخت ترین قوانین نہیں بناتیں اور سیاست کو مجرمانہ پس منظر رکھنے والے افراد سے پاک کرنے کیلئے کوشش نہیں کرتیں اس وقت تک یہ مسئلہ ایک لعنت کی شکل میں موجود رہے گا ۔ طاقت اور پیسے کے بل پر انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا جمہوری عمل نہیں ہوسکتا ۔ یہ جمہوریت سے کھلواڑ ہے اور اس کھلواڑ کا سلسلہ فوری بند ہونا چاہئے ۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب حکومتیں اور سیاسی جماعتیں اپنے ادنی سے سیاسی مفادات کو ترک کرتے ہوئے ایک آواز ہوجائیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ فی الحال ایسا کوئی امکان نظر نہیں آتا ۔

TOPPOPULARRECENT