Thursday , December 13 2018

مجرم کو سزائے موت کے 19 سال بعد کیس کی دوبارہ سماعت

بیجنگ ۔ 23 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) چین میں عصمت ریزی اور قتل کے ایک معاملہ کی دوبارہ جانچ پڑتال کیلئے پانچ ججوں پر مشتمل ایک بنچ تشکیل دی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہیکہ اس واقعہ میں ملوث ملزم کو 19 سال قبل عصمت ریزی اور قتل معاملہ میں سزائے موت دی جاچکی ہے جبکہ اسی دوران ایک دیگر شخص نے دعویٰ کیا ہیکہ جس کو ملزم سمجھ کر پھانسی دی گئی وہ بے قصور

بیجنگ ۔ 23 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) چین میں عصمت ریزی اور قتل کے ایک معاملہ کی دوبارہ جانچ پڑتال کیلئے پانچ ججوں پر مشتمل ایک بنچ تشکیل دی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہیکہ اس واقعہ میں ملوث ملزم کو 19 سال قبل عصمت ریزی اور قتل معاملہ میں سزائے موت دی جاچکی ہے جبکہ اسی دوران ایک دیگر شخص نے دعویٰ کیا ہیکہ جس کو ملزم سمجھ کر پھانسی دی گئی وہ بے قصور تھا اور قصوروار میں ہوں۔ مشرقی چین کے صوبہ شینڈونگ میں ہائر پیپلز کورٹ نے پانچ ججوں کی بنچ تشکیل دی ہے جہاں ملزم نائی شوبین کے کیس پر دوبارہ غوروخوض ہوگا جسے 1995ء میں 21 سال کی عمر میں سزائے موت دی گئی تھی۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے 1994ء میں ایک خاتون کی عصمت ریزی کے بعد اس کاقتل کردیا تھا۔ 2005ء میں 47 سالہ وانگ شوجین کی عصمت ریزی اور قتل کے تین معاملات میں ملوث ہنے پر گرفتاری عمل میں آئی تھی اور اس نے یہ اعتراف بھی کیا کہ جس خاتون کی عصمت ریزی اور قتل کیلئے نائی شوبین کو سزائے موت دی گئی تھی، اس کا اصلی مجرم وہ (وانگ) تھا جبکہ شوبین بے قصور تھا حالانکہ گذشتہ سال بھی وانگ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ خاتون کی عصمت ریزی اور قتل کا اصل مجرم وہی ہے لیکن عدالت نے اس کے بیان پر یقین نہیں کیا تھا۔ وانگ کے اس دعوے کے بعد عوام نے بھی عدلیہ کی غیرجانبداری سے متعلق سوالات پوچھنا شروع کردیئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT