Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / مجلس اور تحریک کے امیدوار کے درمیان سخت مقابلہ کا امکان

مجلس اور تحریک کے امیدوار کے درمیان سخت مقابلہ کا امکان

شعلہ بیانی و جذباتی تقاریر سے ترقی نہیں ، عوام دونوں امیدواروں کے ترقیاتی منصوبہ کے منتظر

شعلہ بیانی و جذباتی تقاریر سے ترقی نہیں ، عوام دونوں امیدواروں کے ترقیاتی منصوبہ کے منتظر

حیدرآباد ۔ 17 ۔ اپریل : حلقہ اسمبلی چندرائن گٹہ میں جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں ویسے ویسے مجلس اتحادا لمسلمین اور مجلس بچاؤ تحریک کے امیدواروں کے درمیان مقابلہ سخت گیر ہوتا نظر آرہا ہے ۔ دونوں جماعتوں کے امیدواروں کے جلسہ ہائے عام کے علاوہ پدیاترا و ریالیاں کامیاب نظر آرہی ہیں لیکن عوامی رجحان کو دیکھتے ہوئے ابھی کوئی قطعی فیصلہ کیا جانا ممکن نہیں ہے ۔ مجلس بچاؤ تحریک کے امیدوار ڈاکٹر قائم خاں کو عوامی مقبولیت کے ساتھ ساتھ ان کے والد مرحوم جناب امان اللہ خاں کی خدمات کے سبب انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے ۔ اسی طرح مجلس اتحاد المسلمین کے امیدوار جناب اکبر الدین اویسی کو بھی شعلہ بیانی کے باعث مقبولیت حاصل ہے وہیں انہیں کارکنوں کے جم غفیر کے ساتھ پدیاترا اور عوام سے ملاقات و ان کی شکایات کی سماعت کا موقع نہ ملنے کے سبب عوام میں کچھ حد تک ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ 1993 میں غازی ملت مرحوم جناب امان اللہ خاں نے مجلس بچاؤ تحریک کی بنیاد اس وقت ڈالی تھی جب بابری مسجد مسئلہ پر انہوں نے قیادت سے استفسار کیا تو انہیں جماعت سے معطل کردیا گیا تھا ۔ 1999 تک حلقہ اسمبلی چندرائن گٹہ کی نشست مجلس بچاؤ تحریک کے قبضہ میں رہی اور 1999 میں اکبر الدین اویسی نے 11,900 ووٹ سے کامیابی حاصل کی تھی ان کی اس کامیابی کا سلسلہ آج بھی جاری ہے لیکن اس مرتبہ دونوں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ نظر آرہا ہے چونکہ چندرائن گٹہ علاقہ کے عوام بنیادی مسائل کے حل کے علاوہ سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ بعض دیگر امور پر موجودہ رکن اسمبلی سے ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں ۔ ڈاکٹر قائم خاں جو کہ مسلسل اس حلقہ کے عوام سے رابطہ میں ہیں اور انہیں حلقہ کے نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بزرگوں کی حمایت بھی حاصل ہے ۔ حلقہ اسمبلی چندرائن گٹہ میں رائے دہی کے عام رجحان کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تقریبا 50 تا 55 فیصد رائے دہی اس حلقہ میں ریکارڈ کی جاتی رہی ہے اور گزشتہ 3 انتخابات سے مجلس بچاؤ تحریک دوسرے نمبر پر رہتے ہوئے سخت مقابلہ کررہی ہے ۔ اس مرتبہ عوامی رجحانات میں نمایاں تبدیلی نظر آرہی ہے جس کے کئی وجوہات بتائے جارہے ہیں جن میں طویل مدت سے ایک ہی نمائندہ بھی قرار دی جارہی ہے ۔ ڈاکٹر قائم خاں کا دعویٰ ہے کہ حلقہ اسمبلی چندرائن گٹہ کی مجموعی ترقی میں کوئی بہتری پیدا نہیں ہوئی ہے اور آج بھی حلقہ کے عوام سرکاری نلوں میں پینے کے پانی کے حصول کے لیے قطار میں ٹھہرے ہوتے ہیں ۔ بدعنوانیوں و بے قاعدگیوں کا دور دورہ ہے کوئی بھی سرکاری کام کے لیے رشوت کا چلن عام ہے ۔

مجلس بچاؤ تحریک کے امیدوار ڈاکٹر قائم خاں کے ان الزامات کو مجلسی امیدوار جناب اکبر الدین اویسی نے مسترد کرتے ہوئے یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ کوئی رکن اسمبلی ان کے حلقہ کی ترقی کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور کسی سے بھی ان کے ترقیاتی اقدامات کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ۔ ان کے ترقیاتی ادعا جات میں اپوگوڑہ فلائی اوور برج کی تعمیر شامل ہے ۔ جس کی تکمیل کے لیے مزید 2 سال درکار ہوسکتے ہیں چونکہ ابھی 4 پلر ڈالے جانے باقی ہے ۔ اکبر الدین اویسی کی شعلہ بیانی کا ہر کوئی معترف ہے لیکن شعلہ بیانی سے ترقی ممکن نہیں اور اب موجودہ رکن اسمبلی واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے اگر کچھ نہیں بھی کیا ہے تو وہ تقریر تو کرسکتے ہیں ۔ ان کے دعوؤں میں ان کے اپنے ذاتی صرفہ سے تعمیر کردہ اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے 5000 بچوں کی تعلیم کا انتظام بھی شامل ہے ۔ رکن اسمبلی کو حلقہ کی ترقی کے لیے جو فنڈ جاری کیا جاتا ہے اس کے استعمال میں موجودہ رکن اسمبلی کافی پیچھے ہیں اور اب بھی زائد از نصف رقم کی اجرائی و ترقیاتی کام باقی ہیں۔ اس صورتحال کے علاوہ حلقہ میں موجود اکثریتی طبقہ کے رائے دہندے بھی تذبذب کا شکار ہیں کہ آیا مجوزہ انتخابات میں موجودہ رکن اسمبلی کے حق میں ووٹ استعمال کریں یا جاریہ تبدیلی کے رجحان کے ساتھ جائیں ۔ بیشتر علاقوں کے عوام اس بات کی شکایت کررہے ہیں کہ ان کے علاقوں میں پینے کے صاف پانی کا نظم نہیں ہے اور متعدد مرتبہ اس سلسلہ میں توجہ دلوائی جاچکی ہے ۔ علاوہ ازیں برقی دھاوؤں کے معاملہ میں بھی عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے چونکہ کئی علاقوں میں گھروں کے برقی میٹرس باہر نصب کردئے گئے جس پر نمائندوں کی خاموشی کے سبب عوام ناراض ہیں ۔ اسی طرح ایس سی ، ایس ٹی طبقہ کے رائے دہندوں میں بھی ناراضگی دیکھی جارہی ہے ۔ ان حالات میں دونوں امیدواروں کے درمیان ترقیاتی منصوبہ پر سخت مقابلہ کے ارکان میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے اور عوام میں یہ احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ شعلہ بیانی سے ترقی نہیں ہوسکتی ۔۔ ( بشکریہ : دی ہندو ۔ ٹائمس آف انڈیا )

Top Stories

TOPPOPULARRECENT