Saturday , December 16 2017
Home / اضلاع کی خبریں / مجلس بلدیہ ظہیرآباد کی 64 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلم خاتون صدرنشین

مجلس بلدیہ ظہیرآباد کی 64 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلم خاتون صدرنشین

سابق صدرنشین بلدیہ محمد تنظیم کی اہلیہ شبانہ بیگم کو منفرد اعزاز

ظہیرآباد ۔ 17 مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مجلس بلدیہ ظہیرآباد کی 64 سالہ انتخابی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک مسلم صدرنشین کا نام شامل کیا جائے گا اور یہ اعزاز اس خاتون کو حاصل ہوگا جو 24 رکنی بلدیہ ظہیرآباد کیلئے 30 مارچ 2014ء کو منعقدہ انتخابات میں عام زمرہ کی خاتون کیلئے مختص بلدی حلقہ 20 سے منتخب ہوئی تھیں۔ وہ خاتون کوئی اور نہیں بلکہ سابق صدرنشین بلدیہ محمد تنظیم کی اہلیہ شبانہ بیگم ہیں۔ موصوفہ کا مجلس بلدیہ ظہیرآباد کے مخلوعہ صدرنشین عہدہ پر 16 مئی کو منعقدہ انتخابات میں منتخب کیا جانا، اس وعدہ کی تکمیل ہے جو 30 مارچ 2014ء میں منعقدہ انتخابات کے معلنہ انتخابی نتائج میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہ ہونے کی صورت میں مجلس بلدیہ ظہیرآباد کو غیرکانگریسی جماعتوں ٹی آر ایس، تلگودیشم اور مجلس کی زیراقتدار لانے کی حکمت عملی کی صورت گیری کیلئے مذکورہ جماعتوں کے قائدین کے مابین 2014ء میں ایک شریفانہ معاہدہ ہوا تھا جس میں اقرار کیا گیا تھا کہ مجلس بلدیہ کی کرسی صدارت پہلی نصف میعاد کیلئے ٹی آر ایس اور دوسری نصف میعاد کیلئے تلگودیشم کے قبضہ میں رہے گی جبکہ نائب صدرنشین کا عہدہ پہلی نصف میعاد کیلئے مجلس کے اور بقیہ میعاد کیلئے بلدی حلقہ 16 سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے منتخب رکن بلدیہ کو دیا جائے گا۔ معاہدہ میں تین معاون اراکین بلدیہ کی نشستوں پر ٹی آر ایس، تلگودیشم اور مجلس کے اراکین کو منتخب کرنے کا اقرار کیا گیا تھا۔ مجلس بلدیہ کے صدرنشین و نائب صدرنشین عہدوں کیلئے 3 جولائی 2014ء کو منعقدہ انتخابات میں ٹی آر ایس کی امیدوار چنوری لاونیا نے صدرنشین اور مجلس کے امیدوار محمد عظمت پاشاہ نائب صدرنشین عہدہ کیلئے منتخب قرار دیئے گئے تھے۔ بعدازاں حسب معاہدہ معاون اراکین بلدیہ کی تین نشستوں پر ٹی آر ایس کے محمد اکبر، تلگودیشم کے برہمالماں اور مجلس کے محمد لقمان کو منتخب کیا گیا تھا۔ غیرکانگریسی جماعتوں کے مابین طئے پائے معاہدہ کے مطابق ہی مجلس بلدیہ کی کرسی صدارت دوسری میعاد کیلئے تلگودیشم کے حوالے کرنے کی حکمت عملی طئے کی جانے لگی تو اس دوران تلگودیشم کے تین کونسلر شبانہ بیگم، محمد عبداللہ اور محمد یونس نے تلگودیشم سے مستعفی ہوکر 20 اپریل 2017ء کو ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ اس طرح میونسپل کونسل میں ٹی آر ایس ارکان کی تعداد 5 سے بڑھ کر 8 ہوگئی۔ ٹی آر ایس کے سرکردہ قائدین بی بی پاٹل ایم پی، محمد فریدالدین ایم ایل سی اور کے مانک راؤ انچارج ٹی آر ایس حلقہ اسمبلی ظہیرآباد نے ریاستی وزیرآبپاشی ٹی ہریش راؤ کی ہدایت پر طئے پائے معاہدہ کو روبہ عمل لانے کیلئے پیشرو صدرنشین بلدیہ چنوری لاونیا کو اپنے عہدہ سے مستعفی ہونے کی ہدایت دی اور انہوں نے فوری اپنے استعفیٰ کا مکتوب 17 ارپیل 2017ء کو میونسپل کمشنر کے حوالے کردیا۔ مخلوعہ صدرنشین عہدہ کیلئے گذشتہ 15 مئی کو میونسپل کونسل میٹنگ ہال میں انتخابات منعقد ہوئے لیکن فورم کی عدم تکمیل پر 16 مئی کو دوبارہ انتخابات منعقد ہوئے جس میں تلگودیشم سے مستعفی ہوکر ٹی آر ایس میں شامل ہونے والی شبانہ بیگم نے اپنی قریبی حریف کانگریس کی امیدوار سی ایچ لکشمی کے مقابلے میں 5 ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ نومنتخب صدرنشین شبانہ بیگم کی کامیابی میں ٹی آر ایس کے سرکردہ قائدین خاص کر رکن قانون ساز کونسل محمد فریدالدین کی کاوشوں کا بڑا دخل ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ سابق ریاستی وزیر محمد فریدالدین نے اپنی خداداد سیاسی تدبر و فراست کو کام میں لاتے ہوئے 2000ء میں الاڈی نرسمہلو کو، 2005ء میں مرلی کرشنا گوڑ کو، 2014ء میں چنوری لاونیا کو اور 2017ء میں شبانہ بیگم کو مجلس بلدیہ کی کرسی صدارت تک پہنچانے میں اہم رول ادا کیا ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT